محدثین کا احسان

ہارون رشید کے پاس ایک زندیق کو لایا گیا، خلیفہ نے اس کے قتل کا حکم صادر کیا تو اس نے کہا:
تم مجھے قتل کر دو گے لیکن ان چار ہزار احادیث کا کیا کرو گے جن کو میں نے وضع کر کے (یعنی گھڑ کر) لوگوں میں عام کر دیا ہے! ان (چار ہزار) میں سے کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے منقول نہیں تھی-

خلیفہ نے کہا کہ اے زندیق! تو عبداللہ بن مبارک اور ابن اسحاق غواری کو نہیں جانتا، ان کی تنقید کی چَھلنی سے تیری تمام حدیثوں کا ایک ایک حرف نکل آئے گا-

(تاریخ دمشق، ج4، ص115 بہ حوالہ شان حبيب المنعم من روایات المسلم)

یہ تو صرف ایک شخص کا واقعہ ہے جس نے چار ہزار احادیث گھڑ کر لوگوں میں عام کیں، اس کے علاوہ بھی کئی لوگوں کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے جنھوں نے حدیثیں گھڑیں بلکہ کئی فرقوں نے اس پر زور دیا اور اس کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس امت پر محدثین کرام کا بہت بڑا احسان ہے جنھوں نے اپنی تحقیق و تنقید کی چَھلنی میں حدیث رسول کو منگھڑت روایات سے الگ کیا اور آج بھی محققین اس اہم ترین کام میں مصروف ہیں-

کسی بھی روایت کو بیان کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ وہ کس کتاب میں موجود ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ کتاب میں ہونے کی وجہ سے وہ صحیح ہو کیوں کہ کتابوں میں بھی جھوٹی روایات ہوتی ہیں لہذا یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس روایت پر علماے اہل سنت کی کیا تحقیق ہے- اگر کبھی آپ نے ایسی روایات بیان کر دیں یا کہیں لکھ دی جو صحیح نہیں تھی تو علم ہو جانے پر اپنی غلطی کو فوراً تسلیم کریں بجائے ہٹ دھرمی کرنے کے، کیوں کہ اس پر اسرار کرنا مزید ایک بڑی غلطی ہے-

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post