میں اسے سنی بنا دوں گا

عمران بن حِطاَّن رَقَاشی اکابر علماے محدثین میں سے تھے، ان کی ایک چچا زاد بہن خارجیہ (ایک گمراہ فرقے سے) تھی اس سے نکاح کر لیا! 
علماے کرام نے سن کر طعنہ زنی کی تو انھوں نے کہا: میں نے تو اس لیے نکاح کیا ہے کہ اس کو اپنے مذہب پر لے آؤں گا-
ایک سال نہ گزرا تھا کہ خود خارجی ہو گئے!!! 

(الإصابة فی تمیز الصحابة، ج5، ص233 بہ حوالہ ملفوظات اعلی حضرت)

ع شکار کرنے چلے تھے شکار ہو بیٹھے 

اسی طرح آج بھی کچھ سنی لڑکے بدمذہبوں کے گھر سے لڑکی لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اسے سنی بنا دوں گا لیکن ہوتا کچھ اور ہے! 
نکاح کرتے وقت سب سے پہلے ہمیں ایک دوسرے کے دین کو ملحوظ رکھنا چاہیے- اگر لڑکی یا لڑکا بدمذہب ہے تو ہرگز ان سے رشتہ نہ جوڑیں-

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post