مقصود کائنات اور ایک روایت

کچھ دنوں پہلے ایک شعر کو لے کر دو گروہوں میں کافی بحث و تکرار ہوئی- وہ بےدم شاہ وارثی کا یہ شعر تھا:

؂ بےدم یہی تو پانچ ہیں مقصود کائنات 
   خیر النسا حسین و حسن مصطفی و علی

ایک گروپ نے کہا کہ یہ شعر درست نہیں ہے کیوں کہ مقصود کائنات صرف حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہے اور دوسرے نے کہا کہ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے- دونوں طرف سے تحریروں اور تقریروں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں رافضیت اور خارجیت کے فتوے بھی جاری کیے گئے!
صحتِ شعر کا انکار کرنے والوں کو کسی نے اہل بیت کا دشمن قرار دیا تو دوسری طرف حمایت کرنے والوں کو رافضیت اور شیعیت کا دلال کہا گیا! اس افراط و تفریط کے ماحول سے دور ایک معتدل مزاج رکھنے والی جماعت نے اصلاح کی بھرپور کوشش کی لیکن کچھ لوگوں کے سر پر ایسا بھوت سوار ہے جو کسی کی سننے ہی نہیں دیتا-

جب دونوں طرف سے گولیاں چل رہی تھیں تو اپنی فتح کا جھنڈا بلند کرنے کے چکر میں کچھ لوگوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ ہم جو گولیاں چلا رہے ہیں وہ کہاں سے لی گئیں ہیں- ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں طرف سے دلائل پیش کیے جا رہے تھے لیکن اس میں بعض لوگوں نے اِدھر اُدھر کی باتوں کو بھی دلیل بنا کر اپنا الو سیدھا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی- مثال کے طور پر اس شعر کو درست کہنے والوں میں سے بعض نے شیعوں کی گھڑی ہوئی روایات کو بھی نہیں چھوڑا- اپنے پلڑے کو بھاری کرنے کے لیے ایسی روایات کو بیان کیا گیا جو مذہب شیعہ کی ترجمانی کرتی ہیں- ایک روایت کچھ اس طرح ہے:

روایت ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کے جسم میں روح ڈالی تو حضرت آدم نے عرش کے داہنی طرح نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ پنج تن پاک کا نور رکوع اور سجود کر رہا ہے- حضرت آدم نے ان کے متعلق سوال عرض کیا تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ تیری اولاد میں سے پانچ شخص ہیں، اگر یہ (پانچوں) نہ ہوتے تو میں جنت، دوزخ، عرش، کرسی، آسمان، زمین، فرشتے اور انسان وغیرہ کسی کو پیدا نہ کرتا...... الخ

اس روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ کتابوں کا نام بھی لیا جاتا ہے، مثلاً ایک مقرر صاحب نے کہا کہ اس روایت کو پیر مہر علی شاہ نے اپنی کتاب "مہر منیر" میں لکھا ہے اور اسے حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی کی طرف منسوب کیا ہے-
پہلی بات تو یہ ہے کہ "مہر منیر" نامی کتاب پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ کی تصنیف نہیں ہے بلکہ مولانا فیض احمد صاحب (خطیب درگاہ غوثیہ مہریہ) کی ہے- یہ کتاب پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی سوانح حیات پر مشتمل ہے- اس میں یہ روایت ایک دوسری کتاب سے نقل کی گئی ہے جس کا نام "ارجح المطالب" ہے- اسی کتاب "ارجح المطالب" کے حوالے سے اور بھی بعض لوگوں نے اس روایت کو نقل کیا ہے- بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ "ارجح المطالب" اہل سنت کی معتبر کتاب ہے لہذا اب ذرا ایک نظر اس کتاب پر بھی ڈالتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ اہل سنت کے نزدیک کتنی معتبر ہے-

ارجح المطالب پر ایک نظر:
یہ کتاب مولوی عبیداللہ امرتسری کی ہے جو کہ سنی نہیں بلکہ تقیہ باز شیعہ تھا- اسی کتاب میں درج ذیل باتیں بھی موجود ہیں:
(1) جو عورت حضرت علی سے بغض رکھے اسے پاخانے کی راہ سے حیض کا خون آتا ہے-
(2) حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں اور علی ایک نور سے ہیں- (اس سے شیعوں کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے)
(3) حضرت ابو بکر صدیق سے باغ فدک کے معاملے میں اجتہادی خطا ہوئی-
(4) شیخین سے بہ تقاضاے بشریت امور شریعت میں غلطی ہو جایا کرتی تھی اور حضرت علی سے غلطی کا صدور ممکن نہیں تھا-
(اس سے عصمت کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے، شیعوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت علی معصوم ہیں)
(5) محمد بن سیرین کہا کرتے تھے کہ اگر وہ قرآن مل جاتا جو حضرت علی نے جمع کیا تھا تو اس سے بہت علم حاصل ہوتا-
(اس سے بھی شیعوں کا یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن مکمل نہیں) 
(6) حضور ﷺ نے فرمایا کہ علی خیر البشر ہیں، جس نے انکار کیا وہ کافر ہوا-
(7) حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ شب معراج اللہ تعالی نے آپ سے کس آواز میں کلام کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ علی کی آواز کے ساتھ-
(یہ بھی عقائد شیعہ کی ترجمانی کرتی ہے) 
(8) اللہ تعالی نے اپنے فرشتوں کو علی کے منھ کے نور سے پیدا فرمایا-
(9) حضرت فاطمہ کا نکاح فرشتوں کی گواہی سے ہوا-

(دیکھیے ارجح المطالب یعنی سیرت امیر المومنین)

اس کے علاوہ اور بھی کئی عبارات ہیں جو اہل سنت کے بنیادی عقائد کے خلاف ہیں لہذا یہ ہمارے نزدیک معتبر نہیں اور اس کے حوالے اہل سنت پر حجت نہیں ہو سکتے-

(انظر: میزان الکتب، ص441 تا 460)

ملک پاکستان کے ایک مشہور خطیب نے اس روایت کو بیان کر کے جب حوالے دینے شروع کیے تو رفتار میں یہ بھی کہتے ہوئے نکل گئے کہ امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی نے بھی اسے نقل کیا ہے......!!! انھوں نے کتاب کا نام ہی نہیں بتایا اور بتاتے بھی کیسے، جب ایسی کوئی کتاب ہی نہیں تھی-

اس روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کچھ تفسیر کی کتابوں کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے حالانکہ کتب تفاسیر میں موجود روایات کے حالات اہل علم حضرات بہ خوبی جانتے ہیں- ایسے حوالے پیش کرنے سے کوئی فائدہ نہیں- 

اس سے ملتی جلتی ایک روایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! حضرت آدم علیہ السلام نے کن کلمات کے ذریعے توبہ کی تھی؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اللھم اغفر لی بحق محمد و علی و فاطمة و حسن و حسین
یعنی اے اللہ مجھے ان پانچوں (محمد ﷺ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنھم) کے وسیلے سے بخش دے-

اس روایت کو امام ابن جوزی نے " الموضوعات" میں داخل کیا ہے اور امام دارقطنی، یحییٰ بن معین اور ابن حبان کے اقوال کو بھی نقل کیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے-
اس کے علاوہ ابو زرعہ، ابو حاتم، ابو معمر، ابن عدی وغیرہ نے اس کے راویوں پر جرح کی ہے-

(انظر: الموضوعات لابن جوزی، ج2، ص3، ط المکتبة السلفیة بالمدينة المنورة، 
و فیه حسین الاشقر، قال ابو زرعة: منکر الحدیث، و قال ابو حاتم: لیس بقوی، و قال الجوزجانی: غال شنام للخیرۃ، و قال ابو معمر الھذلی: کذاب، و قال النسائی و الدارقطنی: لیس بالقوی "المیزان" و قال الذھبی فی الترتیب: عمر لیس بثقة، و قال ابن عراق فی التنزیه: و اخرجه ابن انجار من طريق محمد بن علی بن خلف العطار من ھذا الضرب عجائب و ھو منکر الحدیث والبلاء فیه عندی منه لا من حسین) 

ہماری اس پوری بحث کا مقصد صرف ایسی روایات کا رد کرنا ہے جو شیعوں کی گھڑی ہوئی ہیں اور ان کے مذہب کو تقویت پہنچاتی ہیں نہ کہ یہ ثابت کرنا کہ بےدم شاہ وارثی کا مذکورہ شعر درست ہے یا نہیں؟ 

فَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَار

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post