ہمارے نوجوان اور سوشل میڈیا

اس زمانے میں اب بہت کم لوگ ایسے بچے ہیں جو سوشل میڈیا سے دور ہیں- ٹی وی، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہر شخص پوری دنیا سے ایسا جڑا ہوا ہے جیسے دو انگلیاں- دنیا کے ایک کونے میں کچھ ہوتا ہے تو ہزاروں میل دور دوسرے کونے میں فوراً خبر پہنچ جاتی ہے- سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے ذریعے مختلف شہروں کے رہنے والے ایک دوسرے کو دوست بنا رہے ہیں- اِن ویب سائٹس میں فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، انسٹا گرام، ٹیلی گرام اور ویڈیو کالنگ ایپس بہت مشہور ہیں- نوجوانوں کی اکثریت سوشل میڈیا پر موجود ہے- شہر کیا اور دیہات کیا، ہر جگہ سوشل میڈیا کا جال بچھا ہوا ہے-

فائدہ بھی نقصان بھی:
جہاں ایک طرف سوشل میڈیا سے لوگوں کو بے حساب فائدہ ہوا ہے وہیں دوسری طرف بہت بڑا نقصان بھی ہوا ہے- فائدے اور نقصان کا دارومدار اس کے استعمال پر ہے؛ اگر آپ اس کا صحیح استعمال کرتے ہیں تو یہ مفید ہے ورنہ مضر-

نوجوانوں کے حالات:
کئی نوجوانوں کی ٹائم لائن، اسٹیٹس اور تصویر ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان کے والدین یا گھر والے دیکھ لیں تو شرم سے پانی پانی ہو جائیں! ٹائم لائن پر بے ہودہ لطیفے، گندی گندی تصویریں اور غیر اخلاقی تحریریں موجود ہوتی ہیں- اگر کبھی کبھار دینی جذبہ پیدا ہو بھی گیا تو یہ تحریریں شئر کرتے ہیں کہ "یہ میسج گیارہ لوگوں کو بھیجو تو خوشخبری ملے گی"، "اس مہینے کی مبارک باد دو تو جنت میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا"، "آج سیدہ فاطمہ کا یوم ولادت ہے" (جو کہ سوشل میڈیا پر روز ہوتا ہے) وغیرہ-

اگر دین کے لیے جذبات زیادہ بڑھ گئے تو پھر یہ میسج شئر کرتے ہیں کہ "ایک فلم ریلیز ہو رہی ہے اللہ کے بندے....... " باقی تو آپ جانتے ہی ہیں-

صحیح استعمال:
اگر آپ فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر اور انسٹا گرام وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں تو انھی لوگوں کو فالو کریں یا فرینڈ بنائیں جن کی تحریریں (پوسٹس)، ٹویٹس، فوٹوز اور وڈیوز وغیرہ سے آپ کے علم میں اضافہ ہو یا کوئی اچھی چیز سیکھنے کو ملے، مثال کے طور پر علماے اہل سنت کو فالو کریں، اسلامی پیجز کو لائیک کریں، اپنے دوستوں اور رشتہ داروں جو ان ویب سائٹس پر موجود ہوں، انھیں لسٹ میں شامل کریں- جہاں کہیں کوئی غیر مناسب چیز دیکھیں تو فوراً اس کے بھیجنے والے کو بلاک کریں-

غلط استعمال:
سوشل میڈیا کا غلط استعمال آپ کے گناہوں میں اضافہ کر سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو جیل کی ہوا کھانی پڑے لہذا سیاسی معاملات میں بحث کرنے، کسی کو گالیوں بھرا میسج کرنے، غیر اخلاقی تحریروں یا تصویروں پر تبصرہ کرنے سے اجتناب کریں-

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post