30 جوڑے کپڑے

میرے سامنے ایک شخص نے اپنے بیٹے سے کہا :

میرے پاس 25 سے 30 جوڑے کپڑے ہو گئے ہیں لہذا اس سال (عید کے لیے) مَیں کپڑے نہیں لوں گا-

بیٹے نے کہا :
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؛ کپڑے تو آپ کو لینے ہی ہوں گے.........!

کسی غریب کے پاس پہننے لائق دو جوڑے کپڑے نہیں ہیں اور کسی کے پاس 25 سے 30 جوڑے کپڑے رکھے ہوئے ہیں، یہ کیسا انصاف ہے؟ 
اپنے مال سے جہاں تک ہو سکے غریبوں کی مدد کیجیے- اگر آپ کے پاس کئی جوڑے کپڑے ہیں تو ضروری نہیں کہ ہر عید پر نئے کپڑے خریدے جائیں-

اپنے رشتہ داروں میں یا جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ ان کی مالی حالت خراب ہے، ان کی جس طرح ہو سکے مدد کیجیے- 

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post