خوشی سے

لڑکی کے باپ نے جہیز میں لڑکے کو خوشی سے ایک لاکھ روپے نقدی دی،
پھر خوشی سے ایک گاڑی دی، 
پھر خوشی سے ایک لاکھ روپے کا سامان دیا، 
پھر خوشی سے دو تین سو باراتیوں کو کھانا کھلایا، 
پھر خوشی سے لڑکی دی.......، 
اور ان کے لیے لاکھوں روپے قرض لیے، وہ بھی خوشی سے! 

یہ خوشی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ یہ انھی کو سمجھ میں آتی ہے جو نقدی اور جہیز کا مطالبہ (ڈیمانڈ) تو نہیں کرتے لیکن پھر بھی "خوشی" کے نام پر سب کچھ لے ہی لیتے ہیں۔ لاکھوں روپے لینے کے بعد کہتے ہیں کہ ہم نے تو نہیں مانگا تھا، انھوں نے خوشی سے دیا تو ہم نے رکھ لیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگرچہ صراحتاً مانگ نہ بھی کی جائے تو بھی ایسا ماحول بن چکا ہے کہ دینا ہی پڑتا ہے (خوشی سے) اور اگر نہ دے تو پھر دیکھیے کہ کون کتنا خوش ہوتا ہے۔

بولو یا نہ بولو، یہ تو طے ہے کہ کچھ نہ کچھ ملے گا اور دینا تو پڑے گا۔ ایک مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ڈیمانڈ نہیں کرتے وہ ڈیمانڈ کرنے والوں سے بھی خطرناک ہوتے ہیں۔ جی ہاں! ڈیمانڈ کرنے والے بالکل کلیر بتا دیتے ہیں کہ ہمیں اتنا چاہیے لیکن ڈیمانڈ نہ کرنے والے لڑکی والوں کو پریشانی میں ڈال دیتے ہیں اور وہ یہ کہ جب ڈیمانڈ نہ کی جائے تو لڑکی والوں کے دل و دماغ میں کئی طرح کی باتیں آ رہی ہوتی ہیں، مثلاً: لڑکے والوں نے ڈیمانڈ نہیں کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں کچھ نہیں دینا ہے بلکہ ہمیں اچھے سے سامان وغیرہ دینا ہوگا اور جب انھوں نے نقدی کی ڈیمانڈ نہیں کی ہے تو سامان ذرا بڑھا کر دینا چاہیے اور باراتیوں کے لیے کھانے پینے کا انتظام بھی اچھی طرح کرنا ہو گا ورنہ کہا جائے گا کہ ایک تو ہم نے ڈیمانڈ نہیں کی پھر بھی خاطر داری اچھی طرح نہیں ہوئی۔

اب ڈیمانڈ کرنے والے یا نہ کرنے والے دونوں ہی کسی نہ کسی طرح سے غلط ہیں لہذا ہونا یہ چاہیے کہ بالکل صراحت کے ساتھ انکار کیا جائے کہ ہم نہ تو نقدی لیں گے اور نہ جہیز اور اگر آپ نے کوئی قیمتی چیز جہیز میں دی تو وہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ ڈیمانڈ نہ کرنا اور بالکل انکار کرنا یا منع کر دینا، ان میں فرق ہے۔ اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے کہ لڑکی والوں سے اس بات کی ڈیمانڈ کی جائے کہ کسی بھی طرح کی کوئی لین دین نہیں ہونی چاہیے۔

ڈیمانڈ نہ کر کے اپنی خاموشی کو بولنے کا موقع نہ دیجیے بلکہ صراحتاً (تفصیل کے ساتھ) منع کر کے شبہات کو ختم کر دیجیے۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post