فقہ میں گندی باتیں

کچھ ایسے لوگ جنھیں شاید علم ری ایکشن کر گیا ہے اور سائڈ ایفیکٹ کی وجہ سے دماغی توازن بگڑ گیا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ فقہ میں اور بالخصوص فقہ حنفی کی کتابوں میں گندی گندی باتیں موجود ہیں مثلاً شرم گاہ کو چھونے، آپس میں ملانے اور صحبت کی باتیں اور منی، مذی اور گندے خون کے بارے میں بحثیں موجود ہیں۔

اب اگر دیکھا جائے تو حدیث کی کتابوں میں بھی ایسی گندی باتیں موجود ہیں! 
کتب احادیث میں ایسے ابواب موجود ہیں جن کے نام کچھ اس طرح ہیں:
شرم گاہ چھو لینے سے وضو، 
شرم گاہوں کے مل جانے کا حکم، 
عورت کی پچھلی شرم گاہ میں صحبت، 
تمام بیویوں سے صحبت کرنے کے بعد وضو، 
احتلام میں تری دیکھنا، 
حیض کے خون اور کپڑے، 
مذی سے وضو، 
حیض والی عورت کے ساتھ صحبت و غیرھم

ان کے علاوہ بھی ایسی بہت ساری باتیں موجود ہیں جنھیں فقہ کی کتابوں میں دکھا کر "گندی" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اچھی باتوں پر مشتمل کسی کتاب کو پڑھیں اور کتب احادیث کو ہاتھ بھی نہ لگائیں۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post