منگنی (انگیج منٹ)

منگنی در اصل نکاح کا وعدہ ہے۔ اگر یہ رسم شرعی تقاضوں کے مطابق کی جائے تو جائز ہے اور اس میں لڑکے والے یا لڑکی والے، دونوں کا ایک دوسرے کو تحفے دینا ضروری نہیں ہے۔ اگر انگوٹھی دیتے ہیں تو یہ نہیں ہونا چاہیے کہ لڑکا خود لڑکی کو اپنے ہاتھ سے انگوٹھی پہنائے کیوں کہ منگنی سے وہ میاں بیوی نہیں بن جاتے بلکہ منگنی کے بعد بھی ان کا آپس میں شرعی پردہ کرنا ضروری ہے۔

اگر نکاح میں منگنی نہ بھی ہو جب بھی کوئی ہرج نہیں۔ کچھ لوگ اسے نکاح کا حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے؛ نہ یہ نکاح کا حصہ ہے اور نہ نکاح کے لیے ضروری۔ مروجہ منگنی کی رسم سب سے پہلے ہندستان میں ہی شروع ہوئی اور ہندوؤں سے مسلمانوں میں آئی۔ (جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب اسلامی زندگی میں لکھا ہے)

آج کل منگنی کی رسم بہت سی غیر شرعی رسموں کا مجموعہ بن گئی ہے۔ گانے بجانا، لڑکیوں اور لڑکوں کا بے پردہ جمع ہونا، آپس میں ہنسی مذاق کرنا، یہ سب حرام ہے اور کئی جگہوں پر لڑکے کو سونے کی انگوٹھی پہنائی جاتی ہے حالانکہ مرد پر سونا پہننا حرام ہے۔

کچھ بوڑھی دادیوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے بارے میں یہ باتیں گھڑ رکھی ہیں کہ ان کی منگنی پر جنت سے انگوٹھیوں کے تحفے وغیرہ آئے تھے۔ یہ سب جھوٹ اور منگھڑت ہے۔ 

(انظر: فتاوی یورپ و برطانیہ، ص290، 291)

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post