میں تو ہوں عبد مصطفی

جب ہم خود کو عبد مصطفی کہتے ہیں تو کچھ لوگوں کو اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ان کی تکلیف کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس نام کو لے کر شرک و کفر تک چلے جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مومن سے حسن ظن کی بنا پر "عبد مصطفی" کا معنی "غلام مصطفی" لیا جائے لیکن یہاں تک کہا گیا کہ اس نام سے "شرک کی بو" آتی ہے۔

لفظ "عبد" کا ایک معنی غلام بھی ہے لہذا اسی پر بحث ختم ہو جاتی ہے لیکن پھر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا نبی کریم ﷺ کے زمانے میں کسی نے یہ نام رکھا؟ 
ہم کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ جو کام حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں نہ ہوا ہو وہ غلط ہے بلکہ جو اصول شرع کے خلاف ہو وہ غلط ہے۔ اتنی موٹی بات بھی اگر سمجھ نہ آئے تو اس ہمارا کوئی قصور نہیں۔

زمانے کی بات آ گئی ہے تو ایک روایت میں ہے کہ خلیفہ بننے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :

و کنت عبدہ و خادمه

یعنی میں عبد مصطفی اور خادم مصطفی ہوں۔
اس روایت کو امام حاکم نے نقل کرنے کے بعد صحیح قرار دیا ہے اور مزید حوالے ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں۔

(انظر: المستدرک للحاکم، کتاب العلم، ج1، ص447، ر439۔
و المستدرک للحاکم، اردو، کتاب العلم، ج1، ص250، ر434۔
و الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، الفصل التاسع فی ذکر نبذۃ من فضائله رضی الله تعالی عنه، ص315۔
و کنز العمال، اردو، خلافت کے بعد حضرت عمر کا خطبہ، ج5، ص337، ر14184۔
و دراسة نقدية فی المرویات الواردۃ فی شخصیة عمر بن الخطاب رضی الله عنه، ص586۔
اخبار عمر و اخبار عبدالله بن عمر، خطته فی الحکم، ص55۔
تاریخ مدینة دمشق، ج44، عمر بن الخطاب، ص264، 266۔
و فتاوی رضویہ، ج30، ص462، 463۔
و ازالة الخفاء بہ حوالہ ملفوظات اعلی حضرت، ح1، ص104۔
و فیضان فاروق اعظم، ج2، ص39) 

امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ اپنے نام کے ساتھ عبد مصطفی لکھا کرتے تھے؛ جب آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا:

اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ (النور:32)
ترجمہ: اور نکاح کرو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا۔

اب اسے بھی شرک کَہ دیجیے! (کہ اس میں "عبادکم" کا لفظ ہے) 

اعلی حضرت رحمہ اللہ نے اس پر تفصیلی کلام فرمایا ہے۔

(انظر: ملفوظات اعلی حضرت، ح1، ص104۔
و انظر احکام شریعت، ص235۔
و فتاوی افریقہ، ص22) 

حضرت علامہ مفتی عطا مشاہدی لکھتے ہیں کہ غیر اللہ کی طرف "عبد" کی اضافت جائز و درست ہے۔
ارشاد ربانی ہے:

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ (الزمر:53) 
ترجمہ: اے محبوب! آپ فرما دیجیے کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآىٕكُمْؕ (النور:32)
ترجمہ: اور نکاح کرو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا۔

احادیث مبارکہ میں بھی عبد کی اضافت غیر اللہ کی طرف (موجود) ہے:

ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من کاتب عبدہ علی ماۃ اوقیة فاداھا
(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب العتق، باب اعتاق العبد المشترک... الخ، ص295)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے غلام سے سو اوقیہ پر بدل کتابت کیا۔
اس حدیث میں عبد کی اضافت غیر اللہ کی طرف ہے۔ اسی اضافت کے معنی میں ان احادیث میں بھی "عبد" کا استعمال ہوا ہے:

من اعتق شر کاله فی عبد و کان له مال یبلغ ثمن العبد قوم العبد علیه..... متفق علیه
و من اعتق شقصا فی عبد اعتق کله
(المرجع السابق، ص294) 

امیر المومنین، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے خطبے میں خود کو رسول اللہ ﷺ کا عبد اور خادم کہا۔
(کنز العمال)

کتب فقہ میں غیر اللہ کی جانب عبد کی اضافت کی مثالیں کتاب النکاح، کتاب العتاق وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

(انظر: فتاوی مشاہدی، ج1، ص136، 137)

باتیں اور دلائل تو بہت ہیں لیکن سمجھنے والوں کے لیے اتنا کافی ہے۔ جو سمجھنا ہی نہیں چاہتے ان کے لیے پورا دفتر بھی ناکافی ہے۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post