ہماری بیٹی ایسی ویسی نہیں ہے

آج بیٹی خود بازار سے اپنی پسند کے کپڑے خرید کر لائی ہے اور باپ، ماں اور بھائی بہت خوش ہیں کہ لڑکی سمجھدار ہو گئی ہے- اس ترقی سے گھر میں تو کسی کو تکلیف نہیں ہے لیکن اگر کوئی دینی علم رکھنے والا "مولوی ٹائپ شخص" اس "ترقی" کو غلط کہنے کی جسارت کر بیٹھے تو اُسے فوراً جواب دیا جاتا ہے کہ "ہماری بیٹی ایسی ویسی نہیں ہے" اب انھیں کون سمجھائے کہ کسی کی بھی بیٹی پیدائشی "ایسی ویسی" نہیں ہوتی-

آپ کو بھلے ہی اپنی بیٹی پر بھروسہ ہو لیکن ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہے- آپ کچھ بھی کہیں لیکن یہ سچ ہے کہ وہ گناہوں سے معصوم نہیں ہے- آپ کی نظروں میں آپ کی بیٹی کا کوئی دشمن نہیں ہے لیکن ایک کھلا دشمن ہے جسے شیطان کہا جاتا ہے- یہ بھی جان لیجیے کہ جتنی لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ بھاگ گئیں، جن کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا اور جنھوں نے خود کشی کر لی، وہ سب لڑکیاں بھی پیدائشی "ایسی ویسی" نہیں تھیں بلکہ کئیوں نے مل کر اسے "ایسی ویسی" بنا ڈالا-

ہم نے اشارے میں بہت کچھ کہا ہے- اگر آپ سمجھ گئے تو پھر یہ بھی سمجھ لیجیے کہ یہ "ترقی" نہیں ہے- اگر آپ نہیں سمجھے تو پھر آپ کی بیٹی تو اِسکوٹی چلانا جانتی ہی ہے، بس چابی دے دیجیے اور پیسے یا کارڈ دے دیجیے تاکہ وہ بھی اس عید پر اپنے پسند کی شاپنگ کر سکے-

ویسے دینی علم رکھنے والے "مولوی ٹائپ لوگ" اگر زیادہ بولیں تو آپ بالکل توجہ نہ دیں کیوں کہ آپ ان سے بہتر جانتے ہیں کہ "ترقی" کسے کہتے ہیں اور آپ کی بیٹی بھی "ایسی ویسی" تو ہے نہیں-

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post