لکھنے اور بولنے سے پہلے سوچ لیجیے

نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے :

بندہ کبھی صرف ایک بات اللہ تعالی کی رضا کے خاطر بولتا ہے اور اس کو یہ گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ بات چلتے چلاتے کہاں تک پہنچ جائے گی اور اس کی صرف یہی ایک بات قیامت تک کے لیے رضاے الہی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور کبھی بندہ صرف ایک بات ایسی بولتا ہے جو اللہ تعالی کی ناراضی کا سبب ہوتی ہے اور اس کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ بات (کتنی زبانوں سے ہوتی ہوئی) کہاں تک پہنچے گی اور وہی ایک بات اس کے لیے قیامت میں اللہ تعالی کی ناراضی کا سبب بن جاتی ہے-

(المستدرک للحاکم، اردو، کتاب الایمان، ج1، ص97، 98، ر136) 

اس میں ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو بنا سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں اور پھر ان کی بات آگ کی طرح پھیل جاتی ہے-
ہمارے منھ سے نکلی ہوئی باتیں جب لوگوں کے کانوں میں پہنچتی ہے تو پھر وہیں تک نہیں رہتی بلکہ کئی کانوں تک پہنچ جاتی ہے لہذا کافی سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے-

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس (فیس بک، واٹس ایپ اور اسی طرح کے دیگر پلیٹ فارمز) پر لکھنے والوں کے لیے بھی لمحۂ فکر ہے کیوں کہ ان پلیٹ فارمز پر لکھی گئی باتوں کو کتنے لوگ پڑھتے ہیں، کاپی پیسٹ کرتے ہیں اور شئر کرتے ہیں، اس کا ہمیں اندازہ تک نہیں ہوتا؛ اسی لیے چاہیے کہ ضروری باتیں لکھیں اور فضول کو ترک کر دیں-

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post