جا تجھے بخشا 

امیر المومنین، حضرت مولاے کائنات، علی المرتضی، شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے روضۂ انور پر ایک اعرابی حاضر ہوا اور اس نے اپنے آپ کو وہاں گرا دیا پھر مزار پاک کی خاک کو اپنے سر پر ڈالتے ہوئے کہنے لگا:
یا رسول اللہ ﷺ! جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہم نے سنا اور ان میں سے یہ (آیت) بھی ہے:

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (النساء:64)

یعنی "اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اے حبیب! تمھارے حضور حاضر ہوں پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائیں تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں" 

(اعرابی نے مزید عرض کیا) یا رسول اللہ! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے (یعنی گناہ کیے ہیں) اور آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں-
قبر انور سے آواز آئی: جا تجھے بخش دیا گیا-

(وفا الوفا، ج2، ص1361 و تفسیر مدارک)

امام اہل سنت کیا خوب لکھتے ہیں:

مجرم بلائے آئے ہیں جَآءُوْكَ ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے 

بخدا خدا کا یہی ہے در نہیں اور کوئی مَفَر مَقَر
جو وہاں سے ہو یہیں آ کے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں 

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیک مانگنے کو تیرا آستاں بتایا

ٹیم عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post