لڑکیوں کو پڑھانا صحیح نہیں ہے

عنوان (ٹائٹل) دیکھ کر بھڑکنے سے پہلے ہماری پوری بات سُن لیں؛ ہمیں معلوم ہے کہ جب کوئی دینی علم رکھنے والا "مولوی ٹائپ" شخص ایسی باتیں کرتا ہے کہ "لڑکیوں کو یہ نہیں کرنا چاہیے، وہ نہیں کرنا چاہیے....." تو کئی لوگوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے-

ابھی ایک مقابلہ چل رہا ہے کہ "لڑکیاں کسی سے (خاص کر لڑکوں سے) کم نہیں ہیں" اور تقریباً ہر شخص اپنے گھر کی لڑکیوں کو اس مقابلے کا حصہ بنانا چاہتا ہے- لڑکا اسکول جائے گا تو لڑکی بھی جائے گی، لڑکا کالج جائے گا تو لڑکی بھی جائے گی، یہ گاڑی چلائے گا تو وہ بھی چلائے گی، یہ نوکری (جاب) کرے گا تو وہ بھی کرے گی، اگر یہ کشتی (باکسنگ) کرے گا تو اس نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی ہیں اور اگر یہ سیاست (پالیٹکس) میں آئے گا تو وہ بھی الیکشن لڑے گی! 

اس مقابلے میں جو چیز کنارے (سائیڈ) کر دی گئی وہ ہے "شریعت" اور اب تو یہ سب اتنا عام (کامن) ہو چکا ہے کہ غلط کو غلط ہی نہیں سمجھا جاتا! 
ایسے حالات میں پھنس جاتا ہے "مولوی ٹائپ" شخص جو لوگوں کو یہ سمجھانے نکلتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے-

باتیں تو بہت ہیں پر اب ہم عنوان (ٹائٹل) کی طرف لوٹتے ہیں- ہمارا ایک سوال ہے کہ لڑکیوں کو پڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم جانتے ہیں آپ کے پاس کئی جوابات ہیں اور اگر نہیں بھی ہیں تو آپ کو کہیں سے انتظام کرنے ہوں گے لیکن پہلے سوال کو اچھی طرح سمجھ لیجیے؛ سوال میں "پڑھانے" سے مراد جدید عصری علوم یعنی میٹرک، انٹر، بیچلر، ماسٹر وغیرہ ہیں نہ کہ دینی علوم جو کہ آج کل اتنا پڑھایا جاتا ہے کہ لڑکے والوں سے کہا جا سکے کہ "لڑکی قرآن پڑھنا جانتی ہے"-
اب آپ کئی جوابات دے سکتے ہیں جن کا سیدھا تعلق (کنیکشن) اُس "مقابلے" سے ہوگا جو ہم نے بیان کیا اور بات پھر وہیں آ گئی کہ آپ بھی اسی مقابلے کے چکر میں کسی "ایک چیز" کو کنارے (سائیڈ) کرنا چاہتے ہیں جس کا نام اوپر بیان ہو چکا ہے-

جس چیز کو کنارے (سائیڈ) کیا جا رہا ہے، اُس کو ذرا سامنے (فرنٹ میں) رکھتے ہیں؛ ایک ایسا پہلو نظر آتا ہے جس کی ایک جھلک سے ایسے "مقابلوں" کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہتا، چناں چہ:
امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کو سورۂ یوسف شریف کی تفسیر نہ پڑھائی جائے-

(ملخصاً: فتاوی رضویہ، ج24، ص456) 

سورۂ یوسف قرآن کا حصہ ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ

یعنی (اے نبی ﷺ) ہم تمھارے سامنے سب سے اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں-

اللہ تعالی اس واقعے کو سب سے اچھا واقعہ فرما رہا ہے، اس کے باوجود بھی عورتوں کو اس کی تفسیر پڑھانے سے منع کیا گیا ہے- اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں منع کیا گیا؟ اس واقعے میں ایسا کیا ہے؟.......،
ان سوالوں کا جواب جاننے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ آپ کی لڑکی کو میٹرک تک پڑھائے جانے والے موضوعات (سبجیکٹس) میں کیا کیا موجود ہے؟ 
انگریزی اور ہندی کتابوں میں کیسے واقعات موجود ہیں؟ 
آپ کی لڑکی کے اسکول کے تھیلے (بیگ) میں موجود سائنس کی کتاب میں کیا کیا ہے؟ 
میٹرک تک (تقریباً تیرہ چودہ سال تک) روزانہ پانچ سے چھے گھنٹے تک (تقریباً ستائیس ہزار گھنٹوں تک) کیا پڑھایا گیا؟ 
کالج میں آپ کی لڑکی نے کیا کیا پڑھا؟ 
جسم کے حصوں (پارٹس آف باڈی) کے نام پر کیا کیا جاننے کو ملا؟ 
لیکچر میں کیا تھا؟ تاریخ میں کیا تھا؟ زولوجی میں کیا جانا؟ باٹنی میں کیا سیکھا؟ کمپیوٹر کورس میں کیا سیکھا؟..........؟ 

جب آپ یہ سب جان لیں اس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کیجیے گا کہ سورۂ یوسف کی تفسیر کیوں نہیں پڑھانی چاہیے- آپ کو کسی "مولوی ٹائپ" شخص کے چکر میں پھنسنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ آپ ان سے زیادہ اپنی لڑکی کے لیے بھلائی کے طلب گار ہیں- 

اور ہاں! یہ بھی بتا دیجیے گا کہ "ہمارا عنوان" کس طرح غلط ہے- اگر ہماری باتیں غلط ہیں تو انھیں دیوار پر مار دیں اور "مقابلے" میں ضرور حصہ لیں، داخلہ تو ہمیشہ جاری ہے-

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post