ایک لڑکی چاہیے

ایک لڑکا ہے، جسے آپ "مولوی ٹائپ" کَہ سکتے ہیں کیوں کہ وہ داڑھی نہیں منڈواتا، کوٹ پینٹ نہیں پہنتا، سنیما گھروں میں فلم دیکھنے نہیں جاتا، گانے نہیں سنتا، لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا، سگریٹ، تمباکو وغیرہ کو ہاتھ تک نہیں لگاتا، گالیاں بھی دینی نہیں آتی اور اِس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں جو اُس میں نہیں پائی جاتیں۔ اب اس لڑکے کو اپنی اِس لطف و لذت (انٹرٹینمنٹ) سے خالی زندگی میں ایک لڑکی چاہیے جس سے وہ نکاح کر کے اُسے "بور" کر سکے اور اپنی طرح اسے بھی "بلیک اینڈ وائٹ" بنا سکے۔

ایک تو ایسے لڑکے سے نکاح کرنا ہی بہت بڑی بات ہے اوپر سے جناب کے نخرے تو دیکھیے کہ شرائط اور فرمائشوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست بھی تیار کر رکھی ہے جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔ قارئین بتائیں کہ ایسے لڑکے سے کون نکاح کرے گی؟ 

ایک لڑکی چاہیے جو :

(1) اہل سنت کے عقائد سے پوری طرح واقف ہو اور اپنی ضرورت کے مسائل کو بنا کسی کی مدد کے از خود کتابوں سے نکال سکے۔ اس کے پاس سند (ڈگری) ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی غرض نہیں، بس علم ہونا چاہیے۔ اگر مدرسے میں پڑھائی نہ بھی کی ہو تب بھی کوئی بات نہیں۔

(2) صحت مند ہو اور عمر بیس سے تیس کے درمیان ہو اور رہی بات خوب صورت ہونے کی تو اصل خوب صورتی انسان کے اخلاق ہیں۔

لڑکی کے گھر والوں سے مطالبات (ڈیمانڈز) 

(3) کسی بھی طرح کی لین دین نہیں ہوگی؛ اب چاہے وہ نقدی ہو، جہیز ہو، منھ دکھائی ہو یا کوئی نذرانہ وغیرہ ہو۔

(4) جہیز میں قیمتی سامان، مثلاً: گاڑی، فرِج، کولر، اے سی، پنکھا، ٹی وی، پلنگ، سوفا، گدے، کرسی، ٹیبل، زیورات، برتن، مکسر مشین، گرائنڈر مشین، واشنگ مشین اور موبائل وغیرہ ہرگز قبول نہیں کیے جائیں گے اور ان کے علاوہ کچھ دینے کے بجائے لڑکی کو کچھ دینی کتابیں دے سکتے ہیں۔

(5) گانا بجانا بالکل نہیں ہونا چاہیے؛ نہ تو محفل نکاح میں، نہ بارات میں اور نہ کسی اور حوالے سے۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے گیت وغیرہ گانے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔

(6) غیر شرعی اور غیر ضروری رسم و رواج کی سخت مناہی ہے۔ ہلدی کی رسم، گانے اور ڈھول بجانے کی رسم، لگن لگانے اور صندل اتارنے چڑھانے کی رسم، سیندور لگانے کی رسم، گالیاں دینے کی رسم، منھ دکھائی اور جیب بھرائی کی رسم، رات کو جاگنے اور صبح میں شادی کی رسم، کپڑوں کی ٹوکری بدلنے کی رسم، کسی کو گود میں اٹھانے تو کسی کو دھاگے سے ناپنے کی رسم، کسی کو میٹھا کھلانے تو کسی کا جوتا چرانے کی رسم، دودھ میں انگوٹھی ڈھونڈنے کی رسم اور وداعی کے وقت کی چھتیس قسم کی رسمیں، سب پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ صرف نکاح ہوگا۔

(7) عورتوں اور لڑکیوں کی بھیڑ بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آپ نے دعوت دی ہے تو اُن کے لیے بالکل الگ انتظام ہونا چاہیے تاکہ مرد و عورت ایک محفل میں بے پردہ جمع نہ ہوں۔ بہتر ہوگا کہ عورتوں کو دعوت نہ دیں اور رہی بات بارات کی تو اس میں دو یا تین سے زیادہ عورتیں نہیں ہوں گی۔

(8) کُل باراتیوں کی تعداد بیس سے بھی کم ہوگی جن کے لیے کھانا تیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

(9) بارات دن میں آئے گی اور (چند گھنٹوں بعد) دن ہی میں واپسی ہوگی۔

(10) لڑکے کے استاذ گرامی نکاح پڑھائیں گے اور بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وقت نکاح کسی طرح کی بات نہ ہو۔ آپ کے علاقے میں اگر کوئی انجمن، کمیٹی یا تنظیم ہے جو لڑکے والوں سے مخصوص رقم (مسجد، مدرسہ اور قبرستان کے لیے) لیتی ہے تو وہ پہلے ہی ادا کر دیے جائیں گے لیکن نکاح میں ان کی کسی بھی قسم کی کوئی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔

اب بتائیں کہ نکاح کے لیے کون تیار ہوگا؟ لڑکے کا کہنا ہے کہ اس میں اضافہ بھی کرنا ہے؛ یہ کیا کم تھا جو اضافے کی ضرورت آن پڑی؟ 
دوستوں نے سمجھایا کہ ان شرائط کو دیکھ کر کوئی تیار نہیں ہوگا لیکن لڑکا ہے کہ ضد پر قائم ہے اور کہتا ہے کہ ہر لڑکے کی سوچ ایسی ہی ہونی چاہیے۔
اب آپ ہی سمجھائیں کہ یہ دور ڈی جے، پارٹی، مستی اور فُل انٹرٹینمنٹ کا ہے۔ ایسے رنگین زمانے میں کون آپ کی بلیک اینڈ وائٹ پر توجہ دے گا۔ 

اگر ہر لڑکے کی سوچ ایسی ہو گئی تو.............. 

عبد مصطفی

2 Comments

Leave Your Precious Comment Here

  1. ما شاء اللہ عزوجل

    ReplyDelete
  2. You work for us
    You spend time for us
    Your work is amazing and truly work
    I have no word for your work
    I can just say thanks many time

    ReplyDelete

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post