مساجد کے اماموں کے حالات

اہل سنت کی مسجدوں میں امامت کرنے والوں کے جو حالات ہیں وہ بہت برے ہو چکے ہیں- امامت کی اہمیت اور ضرورت سے ہر مسلمان واقف ہے اور اس کی فضیلت کے لیے صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ اللہ کے نبی، حضور اکرم ﷺ نے بھی امامت فرمائی ہے-
اب جو ہم بیان کرنے جا رہے ہیں وہ آنکھوں دیکھی باتیں ہیں جو ہم نے کچھ مسجدوں میں دیکھی ہیں ورنہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کہاں کہاں ایسی زَبُوں حالی ہے:

امام ایسا شخص ہے جس کے پاس سند (ڈگری) تو ہے لیکن نماز کے بنیادی مسائل تک کا علم نہیں ہے- ہم مانتے ہیں کہ امامت کے لیے عالم ہونا شرط نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جس کو فرائض و واجبات تک کا علم نہ ہو وہ امام بن جائے-
ایسے لوگ امامت کر رہے ہیں جنھیں فرض اور واجب کی تعریف بھی صحیح سے معلوم نہیں ہے- ایسے لوگ اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیچھے کھڑے ہونے والے لوگوں کی نمازوں کو بھی برباد کر رہے ہیں-

اب ظلم کی انتہا دیکھیے کہ جمعہ کے دن وہی امام تقریر بھی کرتا ہے- اب یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ تقریر کرنے کے لیے بھی عالم ہونا ضروری نہیں کیوں کہ علما نے واضح طور پر لکھا ہے کہ غیر عالم کا تقریر کرنا حرام ہے- اس کے علاوہ محلے میں آئے دن محفل میلاد کا انعقاد ہوتے ہی رہتا ہے جس میں وہی امام صاحب مقرر خصوصی ہوتے ہیں- جب ایسے لوگ تقریر کرتے ہیں تو جو منھ میں آتا ہے بول کر نکل جاتے ہیں جس کی وجہ سے عوام گمراہ ہوتی ہے- نمازیں تو گئیں اوپر سے ایمان بھی خطرے میں آ گیا! 

بعض اوقات امام اگر کہیں گیا ہے تو اس کی غیر موجودگی میں مؤذن صاحب امامت کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں جن سے نماز کے فرائض پوچھے جائیں تو جواب میں کہتے ہیں کہ نماز میں پانچ فرائض ہیں (فجر تا عشا) اور قراءت میں تو ایسی روحانیت ہوتی ہے کہ کچھ حروف بلکہ مکمل آیت ہی سنائی نہیں دیتی-

بیان کرنے کو لمبی داستان ہے لیکن یہی بہت بڑی بات ہے کہ لوگوں کی نمازوں کے ساتھ ساتھ ان کا ایمان بھی خطرے میں ہے!
اب اس کے ذمے دار کون ہیں؟ اس کی اصلاح کیسے ممکن ہے؟ عوام کو کیا کرنا چاہیے؟ امام کا انتخاب کیسے ہو؟......؟ ان سب باتوں پر ہمارے اکابر علما کو توجہ دینے کی ضرورت ہے- ہر اہل علم کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ جس طرح ہو سکے اس معاملے میں آواز بلند کرنے کی کوشش کریں-

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post