بہار شریعت ۔ علم کا خزانہ 

کتابیں تو بہت ہیں لیکن بہار شریعت کی بات ہی جدا ہے۔ اردو زبان میں کوئی ایسی کتاب نہیں جسے بہار شریعت کے مقابلے میں پیش کیا جا سکے۔ یہ کتاب بیس حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کے ابتدائی چھے حصوں کے بارے میں خود صاحب بہار شریعت، حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ اس میں روزمرہ کے عام مسائل ہیں، ان چھے حصوں کا ہر گھر میں ہونا ضروری ہے تاکہ عقائد، طہارت، نماز، زکوۃ اور حج کے فقہی مسائل عام فہم سلیس اردو زبان میں پڑھ کر جائز و ناجائز کی تفصیل معلوم کی جائے۔

اس کتاب کا پہلا حصہ جو عقائد کے بیان پر ہے، قابل تعریف ہے۔ بہترین انداز میں عقائد اہل سنت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں جو طرز اپنایا گیا ہے وہ دل لبھانے والا ہے۔ عقائد باطلہ کا علمی انداز میں رد بھی کیا گیا ہے۔ علما ہوں یا عوام سب کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

روزانہ درس دینے کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ کئی مسجدوں میں ایسی کتابوں سے درس دیا جاتا ہے جس میں حکایات وغیرہ کی کثرت ہوتی ہے جس سے سامعین کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا؛ اگر اس کتاب سے درس دیا جائے تو عقائد کی معلومات کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے مسائل بھی معلوم ہو جائیں گے۔

اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی تصنیف کا عرصہ تقریباً 27 سال ہے! 
اس کتاب کا ایک نام "عالم بنانے والی کتاب" بھی ہے اور یقیناً جو شخص اس کتاب کو مکمّل پڑھ کر اچھی طرح سمجھ لے وہ عالم ہے۔ علماے اہل سنت نے بھی اس کتاب کو عالم بنانے والی کتاب تسلیم کیا ہے۔

آج ہماری عوام بلکہ افسوس، کئی خواص بھی کتابوں سے دور ہو چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک اچھی خاصی تعداد علم سے دور ہو گئی۔ بہار شریعت جیسی کتاب ہمارے درمیان موجود ہے اور یہ صرف کتاب نہیں بلکہ ایک انمول خزانہ ہے جسے ہمیں پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ہماری ذمے داری ہے کہ ایسی کتابوں کو خوب عام کریں اور خود بھی پڑھیں۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post