جنتی باپ کے کندھے پر جہنمی بیٹا
(سلسلہ "کربلا کے کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک) 

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں کسی جاہل نے یہ جھوٹی روایت گھڑی ہے کہ ایک مرتبہ آپ یزید کو اپنے کندھے پر بٹھائے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جنتی باپ کے کندھے پر جہنمی بیٹا سوار ہے۔

اس روایت کے متعلق حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت من گھڑت اور جھوٹ ہے۔ حضور کی حیات ظاہری میں یزید پیدا ہی نہیں ہوا تھا بلکہ حضور کے وصال کے پندرہ یا سولہ یا سترہ سال کے بعد پیدا ہوا۔ یزید کی پیدائش 25ھ یا 26ھ یا 27ھ میں ہوئی ہے، روایت مختلف ہیں۔ جس نے یہ روایت بیان کی اس نے حضور ﷺ پر جھوٹ باندھنے کی وجہ سے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنایا۔ بخاری وغیرہ تمام کتب میں یہ حدیث ہے جو چالیس پچاس صحابہ سے مروی ہے:

جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔ (مشکوٰۃ، ص53)

(فتاوی شارح بخاری، ج2، ص34، ملخصاً) 

بحر العلوم، حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی رحمہ اللہ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ بچپن میں ہم نے جاہلوں کی زبانی سنا تھا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ یزید کو اپنے کندھے پر...... الخ۔ یہ بات اس طرح جھوٹ ہے کہ سب جانتے ہیں کہ حضور ﷺ نے 10ھ میں پردہ فرمایا اور یزید کی پیدائش 26ھ میں ہوئی تو جو شخص حضور کے پردہ فرمانے کے سولہ سال بعد پیدا ہوا اس کو حضور ﷺ نے کب حضرت امیر معاویہ کے کندھے پر دیکھا اور کب اس کو جہنمی بتایا۔

(فتاوی بحر العلوم، ج6، ص340) 

فقیہ ملت، حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو اپنی دو کتابوں میں باطل قرار دیا ہے۔

(انظر: خطبات محرم، ص305۔
و سیرت سیدنا امیر معاویہ، ص17، 18)

ایسی روایت بنانے والوں کو ماننا پڑے گا، کیا عقل پائی ہے۔ کسی کو بھی کسی سے ملا دیتے ہیں، اِنھیں حیات اور وفات سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ وہ لوگ بھی قابل ذکر ہیں جو ایسی روایات کو دھڑلے سے بیان کرتے ہیں۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post