کیا اسلام پیار کرنے کی اجازت دیتا ہے؟

ایک لڑکے نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا اسلام کسی لڑکی سے پیار کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
اس کی مراد "شادی سے پہلے" والا پیار تھی۔

میں نے کہا: جس طرح آج کل پیار ہوتا ہے، اس کی اجازت تو نہیں دیتا لیکن اگر کسی کو پیار ہو جائے تو اسلام اس کی رہنمائی ضرور کرتا ہے۔
اولاً تو پیار کی بیماری سے بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے لیکن اگر کسی کو کسی سے پیار ہو جائے تو صبر سے کام لینا چاہیے۔ پیار ایک غیر اختیاری عمل ہے جس پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ یہ فطری (نیچرل) ہے جس سے جنگ کر کے جیتنا ممکن نہیں! 

پیار کرنے والوں کو ڈانٹنے، مارنے اور سختی کرنے سے بہتر ہے کہ انھیں پیار سے سمجھایا جائے اور جہاں تک ہو سکے ان کی مدد کی جائے یعنی ان کا نکاح کروا دیا جائے۔ اگر ہم ان کے ساتھ زبردستی کرتے ہیں تو فتنے کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان اس سلسلے میں حرف آخر ہے:

لم یر للمتحابین مثل النکاح (ابن ماجہ، مشکوٰۃ) 

دو پیار کرنے والوں کے لیے نکاح سے بہتر کوئی حل نظر نہیں آتا۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post