کیوں کہ گھر روز روز نہیں بنتا

گھر بنانے میں لوگ لاکھوں کروڑوں روپے لگا دیتے ہیں کیوں کہ گھر روز روز نہیں بنتا.....،
آپ یہ نہ سمجھیں کہ آج ہم گھر بنانے کے بارے میں بات کریں گے؛ ہمارا مقصد کچھ اور بتانا ہے۔
صرف گھر بنانا ہی نہیں بلکہ ہر وہ کام جو روز روز نہیں ہوتا، اُسے ہم بہتر اور یادگار بنانا چاہتے ہیں۔

اب شادی کو لے لیجیے، ہم نے سمجھ لیا ہے کہ شادی ایک ہی بار ہوتی ہے لہذا جتنا دماغ لگایا جا سکتا ہے، اس میں لگا دیا جائے۔ اس کو بہتر اور یادگار بنانے کے لیے گھر کی طرح لاکھوں روپے لگانے پڑتے ہیں۔ ہم کہنا کیا چاہتے ہیں اسے سمجھیے.......، 

اگر شادی کو گھر کی طرح خاص نہ کر کے عام کر دیا جائے تو اسے آسان بھی بنایا جا سکتا ہے۔ کیا آپ ہماری بات سمجھ گئے کہ ہم کیا کہنا چاہتے ہیں؟ 
ہمارا کہنا ہے کہ شادیوں کو صرف ایک بار نہ کر کے بار بار کیا جائے۔ آپ شاید پھر ہماری بات کو نہیں سمجھ پائے....، مطلب یہ کہ روز روز شادیاں کی جائیں؛ آپ پھر ہمیں غلط سمجھ رہے ہیں۔ کیسے سمجھایا جائے آپ کو.....؟ 

سیدھا سی بات ہے کہ تین چار شادیوں کا سسٹم مل کر عام کیا جائے اور اسے آسان بنا دیا جائے۔ جب یہ طریقہ عام ہوگا تو شادیوں کو بھی آسان کیا جا سکے گا۔ جب ایک مرد تین چار عورتوں سے نکاح کرے گا تو اپنے آپ شادیاں آسان ہو جائیں گی۔ یہ شروع میں تھوڑا مشکل تو ہے لیکن شروعات کی جا سکتی ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہو جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post