چار نکاح

اللہ تعالی فرماتا ہے:

فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً (النساء:3)

"تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمھیں پسند ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار پھر اگر تمھیں اس بات کا ڈر ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکوگے تو صرف ایک سے نکاح کرو"

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مرد کے لیے ایک وقت میں چار عورتوں تک سے نکاح جائز ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی کو اس بات کا خوف ہو کہ وہ چار، تین یا دو کے درمیان انصاف نہیں کر سکتا تو صرف ایک ہی نکاح کرے۔ یہاں انصاف کرنے سے کیا مراد ہے؟ یہی کہ ان کے حقوق ادا کرے۔ ان کے لباس، کھانے، رہنے اور رات کو ساتھ رہنے کا خیال رکھا جائے۔

جنھیں ڈر ہے کہ وہ انصاف نہیں کر سکتے، اُنھیں جانے دیں لیکن جو اِس قابل ہیں کہ چار عورتوں کے حقوق اچھی طرح ادا کر سکتے ہیں وہ بھی آج کل چاہیں تو چار نکاح نہیں کر سکتے۔

بہت سے مسائل ہیں؛ پہلی بیوی کا خوف، بیوی کے گھر والوں کا خوف، چار لوگ کیا کہیں گے اس کا خوف اور پھر شادی شدہ کو لڑکی دے گا کون......؟ 
یہ تو چند مسائل ہیں ورنہ لمبی فہرست ہے۔ 

چار شادیوں کے خلاف بات کرنے والے/والیاں اس آیت کو تو پیش کرتے/کرتیں ہیں لیکن جو انصاف کرنے پر قادر ہیں انھیں بھی لپیٹنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بہت کم لوگ ایسے نظر آتے ہیں جن کی چار بیویاں ہیں حالانکہ انصاف کرنے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ یہ ایک سچ ہے کہ خوف صرف انصاف کر پانے کا نہیں ہے بلکہ اور بھی باتیں ہیں۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post