بیٹی وداع ہو رہی ہے

حضرت اسما فَزاری علیہ الرحمہ کی بیٹی وداع ہو رہی ہے.....، 
آپ علیہ الرحمہ نے رخصتی کے وقت اپنی بیٹی سے فرمایا:

بیٹی! اگر آج تمھاری والدہ زندہ ہوتیں تو مجھ سے زیادہ وہ اس بات کی حق دار ہوتیں کہ (اس موقعے پر) تمھاری تربیت کرے، مگر اب میرا حق بنتا ہے کہ تمھیں سمجھاؤں، لہذا جو کچھ میں کہنے جا رہا ہوں اسے اچھی طرح سمجھ لو! 

جس گھر میں تم نے پرورش پائی اب اس سے رخصت ہو کر تم ایسے بچھونے کی طرف جا رہی ہو جسے تم نہیں پہچانتی اور ایسے رفیق کے پاس جا رہی ہو جس سے تم نامانوس ہو لہذا تم اس کے لیے زمین بن جانا وہ تمھارے لیے آسمان بن جائے گا، 
تم اس کے لیے بستر بن جانا وہ تمھارے لیے ستون بن جائے گا، 
تم اس کی باندی (کنیز) بن جانا وہ تمھارا غلام (تابع دار) بن جائے گا، 
نہ تو ہر وقت اس کے قریب رہنا کہ وہ تم سے بیزار ہی ہو جائے اور نہ اتنا دور ہونا کہ وہ تمھیں بھول ہی جائے بلکہ اگر وہ خود تمھارے قریب ہو تو تم بھی اس کے قریب ہو جانا اور اگر تم سے دور ہو تو تم بھی اس سے دور رہنا، 
اس کے ناک، کان اور آنکھ کی حفاظت کرنا (اس طرح) کہ وہ تم سے صرف خوشبو ہی سونگھے، اچھی بات کے علاوہ کچھ نہ سنے اور خوبصورتی کے علاوہ کچھ نہ دیکھے۔

(انظر: قوت القلوب، الفصل الخامس والاربعون، ج2، ص421 بہ حوالہ اسلامی شادی، ص98، 99)

ان چند نصیحتوں میں خوشیوں کا ذخیرہ پوشیدہ ہے۔ لڑکیاں اگر ان باتوں پر عمل کریں تو اُن کی ازدواجی زندگی ہمیشہ آباد رہے گی۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post