نئی لڑکی نیا لڑکا

ایک نئی گاڑی ہے اور ایک پُرانی یعنی سیکنڈ ہینڈ (Second Hand) تو ظاہر سی بات ہے کہ قیمت میں بہت فرق ہوگا اور دونوں آپس میں برابر نہیں ہیں ٹھیک اسی طرح آج کل انسانوں میں بھی نئے اور پرانے ہوتے ہیں اور انھیں ہمارا سماج برابر نہیں سمجھتا۔
جس لڑکے کی شادی ہو چکی ہے وہ پرانا ہو چکا ہے؛ اب اگر اس کی بیوی کا انتقال ہو جائے، طلاق ہو جائے یا وہ دوسرا نکاح کرنا چاہے تو اسے نئی (کنواری) لڑکی نہیں ملے گی کیوں کہ وہ پرانا ہو چکا ہے۔

اسی طرح ایک لڑکی جس کو طلاق دے دی گئی ہے یا شوہر کی وفات ہو گئی ہے تو اب اس سے نیا (کنوارا) لڑکا نکاح نہیں کر سکتا کیوں کہ ہمارے سماج کے مطابق وہ لڑکی پرانی ہو چکی ہے۔ کہنے کو تو ہمارا سماج پڑھا لکھا ہے لیکن سوچ جاہلوں سے بدتر ہے۔

آپ کی بیٹی اگر پرانی ہو گئی ہے تو...... پہلے ہمیں معاف کیجیے گا کہ ہم ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں لیکن کیا کریں ہمارا سماج بہت پڑھا لکھا ہے؛ تو آپ کی بیٹی کے لیے کسی ایسے لڑکے کو تلاش کرنا ہوگا جو پرانا ہو کیوں کہ اگر آپ نے کسی نئے لڑکے کو دعوت دی تو حقیقت پتہ چلنے پر وہ آپ کی دعوت اور پگڑی دونوں کو قدموں تلے روند دے گا۔ 
اگر آپ کو نیا لڑکا مل بھی گیا تو قیمت سن کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے اور پھر آپ کو کوئی پرانا لڑکا تلاش کرنا ہوگا جو آپ پر احسان کر دے۔

اگر یہ نئے پرانے والی گھٹیا سوچ ہم اپنے ذہنوں سے نکال پھینکے تو پھر ایک شادی شدہ لڑکے کو کنواری لڑکی دینے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور ایک کنوارے لڑکے کا نکاح کسی بیوہ سے کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوگی۔ اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ اس پڑھے لکھے سماج کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا جو صحیح ہے اس کے ساتھ؟ 

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post