اولاد کے جذبات

میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی بیٹی کو صرف اس لیے زد و کوب کررہا تھا کہ اس نے یہ کیوں کہا:

”ابو جی میرا فلاں جگہ نکاح کردو!“ 

مجھے بہت ترس آیا۔ میں نے اسے کہا:
میرے بھائی! اسے بالکل نہ مارو، جب بیٹا بیٹی بول کرکَہ دیں تو ان کا نکاح کردینا چاہیے۔
ویسے بھی باپ کے لیے بہت ضروری ہے کہ بیٹی کا نکاح کرنے سے پہلے اُس کی رائے لے، اگر اس کادل کسی اور طرف مائل ہو تو اس کا لحاظ کرے، تاکہ بعد میں فتنہ پیدا نہ ہو۔ 
عشق بہت بڑی بیماری ہے، اس سے بڑی بیماری کیا ہوسکتی ہے!!

( ملخصاً: المبسوط للسرخسی، کتاب النکاح، ج4، ص192، 193، داراحیاءالتراث العربی بیروت)  

بعض بچے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ان میں عشق و محبت والی حِس بیدار ہوجاتی ہے۔
یہ ایک فطرتی ذوق ہے، جس کے ساتھ مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔
ہاں والدین کا یہ فرض ضرور ہے کہ اس کا درست راستہ متعین کریں۔

مشہور صوفی اور ولی اللہ، حضرت یحیی بن معاذ رازی رحمہ اللہ سے کسی نے کہا:

آپ کا بیٹا فلانی عورت پر عاشق ہوگیا ہے۔ 

آپ نے فرمایا:

ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے میرے بیٹے کو انسانوں والی طبیعت عطا فرمائی۔

(انظر: الداء والدواء، ص508 ، ط دارعالم الفوائد مکة المکرمة، س1429ھ) 

ایک عربی شاعر کہتاہے:

اذا انت لم تعشق ولم تدر ما الهوى
فقم واعتلف تبنا فانت حمار 

جب تم کسی پر عاشق نہیں ہوئے تو تم نے محبت کو سمجھا ہی نہیں، اس لیے اٹھ کر گھاس چرو، تم گدھے ہو۔
(اور محبت بھرے جذبات کو سمجھنا انسانوں کا کام ہے، گدھوں کا نہیں!) 

اس سلسلے میں کچھ گزارشات ہیں:

1: شروع سے ہی اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور انھیں غیر محرم عورتوں/مردوں میں گُھلنے ملنے سے باز رکھیں۔

2: انھیں رسول پاک ﷺ کی محبت سکھائیں تاکہ وہ عشق رسول میں پروان چڑھیں، اور یادِ حضور میں ہی آنسو بہائیں۔

3: اگر آپ شروع سے بچوں کی نگہداشت نہیں کرسکے اور وہ عشقیہ معاملات میں مبتلا ہوگئے ہیں تو اب فطرت کے خلاف جنگ نہ کریں، بلکہ ان کے نکاح کا بندوبست کریں۔

4: آپ کا بیٹا/بیٹی جس جگہ نکاح کے لیے مصر ہو اگر وہ لوگ آپ کی سمجھ سے باہر ہیں تو بچوں کو پیار اور دلیل سے سمجھائیں، اگر ان کے معاملات حدسے بڑھے نہ ہوئے تو مان جائیں گے۔
لیکن اگر معاملات حد سے تجاوز کرگئے ہوئے تو آپ مان جائیے گا۔

5: جس طرح آپ بچپن سے اپنے بچوں کی ہرخوشی کالحاظ رکھتے آئے ہیں، اسی طرح نکاح کے معاملے میں بھی رکھیں۔
بہت دفعہ ایسے ہوا ہوگا کہ آپ کے بیٹے/بیٹی نے آپ کے خلافِ مزاج کام کیا، لیکن آپ ان کی خوشی کے لیے خاموش رہ گئے، اور انھیں دعائیں دے کراپنا دل صاف کرلیا۔
اسی طرح نکاح کے معاملے میں بھی ان کی پسند کالحاظ کریں، اور انھیں دعاے خیر سے نواز کر چپ ہو جائیں، اللہ پاک بہتر کرے گا۔

علامہ قاری لقمان شاہد صاحب

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post