کیا پیار کرنا گناہ ہے؟

کئی لڑکے اور لڑکیوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہوگا کہ کیا پیار کرنا گناہ ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ جو پیار کا طریقہ اِس زمانے میں رائج ہے وہ گناہ نہیں بلکہ کئی گناہوں کا مجموعہ ہے۔

ابھی جس پیار کا بازار گرم ہے اُس کی شروعات ہی غلط طریقے سے ہوتی ہے۔
ایک لڑکا، جس نے پہلے سے سوچ رکھا ہوتا ہے مجھے اپنے "سپنوں کی رانی" تلاش کرنی ہے اور ایک لڑکی جسے اپنے "سپنوں کے راج کمار" کی تلاش ہوتی ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ اسے ڈھونڈنے کے لیے نگاہیں دوڑانی ہوں گی اور جب تک وہ نظر آئے گی یا آئے گا تب تک ہم گناہوں کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہوں گے۔
جس سے نکاح کرنا حرام نہیں ہے، اسے دیکھنا جائز نہیں ہے لہذا معلوم ہوا کہ پیار کی گاڑی شروع ہونے سے پہلے ہی گناہوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

یہ تو شروعات تھی، پھر آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا.....،
پھر دل کی بات بتائی جاتی ہے یعنی پروپوز کیا جاتا ہے، اُس سے بھی پہلے باتیں کی جاتی ہیں اور ایسے کام کیے جاتے ہیں جس سے سامنے والا/والی خوش (ایمپریس) ہو جائے۔ یہ سب گناہ نہیں تو اور کیا ہیں؟ 

ہاں اگر کسی کو ایسا پیار ہوا کہ اچانک کسی پر ایک نظر پڑ گئی اور اپنا دل کھو بیٹھا تو اب اسے چاہیے کہ نکاح کی کوشش کرے اور کامیابی نہ ملے تو صبر کرے۔ گناہوں بھرے مراحل (اسٹیپس) یعنی پروپوز کرنا، تحفے دینا، ایمپریس کرنے کے لیے شعبدے (کرتب) دکھانا وغیرہ کے بجائے اللہ تعالی سے خیر طلب کرے اور جائز طریقے سے اپنے پیار کو پانے کی کوشش کرے۔

عبد مصطفی

1 Comments

Leave Your Precious Comment Here

  1. MaashaALLAH BAHUT kHub likha hai allah ham sabko haram kaam karne se bachaye

    ReplyDelete

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post