اُنھیں وسیلہ کیوں نہ بناؤں

خلیفۂ اعلی حضرت، حضرت علامہ ضیاء الدین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالی سے ایک شخص نے پوچھا: 
توسل کے جائز ہونے پر کیا دلیل ہے؟ 

آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان دلیل ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ (المائدۃ:35)

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔

اس شخص نے کہا کہ اس آیت میں تو وسیلہ سے مراد اعمال صالحہ ہیں۔

آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے اعمال مقبول ہیں یا مردود؟ 

اس نے کہا: مجھے کیا معلوم؟ 

آپ نے فرمایا: حضور ﷺ بارگاہِ خدا میں مقبول ہیں یا نہیں؟ 

اس نے کہا: یقیناً مقبول ہیں۔

آپ نے فرمایا: جب اعمال صالحہ کو وسیلہ بنایا جا سکتا ہے جن کی قبولیت مشکوک ہے، تو حضور اکرم ﷺ کو وسیلہ کیوں نہیں بنایا جا سکتا جو یقیناً مقبول ہیں۔

(انظر: عقائد و نظریات، چوتھا باب، ص137)

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post