عشق سے اللہ کی پناہ

میدانِ عرفات میں، سیدناعبداللہ بن عباس کے سامنے ایک نوجوان پیش کیا گیا جو اِس قدر کمزور ہوچکا تھا کہ اُس کی ہڈیوں پر ماس بھی باقی نہیں رہا تھا۔
آپ نےپوچھا: اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟
لوگوں نے کہا: عشق نے اس کا یہ حال کردیا۔

اُس دن سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ روزانہ عشق سےاللہ کی پناہ مانگتے تھے۔

(انظر: الداء والدواء، فصل: ودواء ھذا الداء القتال، ص497، ط دارعالم الفوائد مکة المکرمة، س1429ھ) 

جوخوش نصیب عشق میں مبتلا نہیں ہوئے، اُنھیں عافیت کی دعا کرنی چاہیے، کیوں کہ ؎

بچتا نہیں ہے کوئی بھی بیمار عشق کا
یارب! نہ ہو کسی کو یہ آزار عشق کا 

اور جو مبتلا ہوچکے ہیں، اُنھیں ہمت ہارنے کے بجائے اپنے کرم والے رب کی طرف دیکھنا چاہیے۔
اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں، وہ جو چاہے، جب چاہے، جیسے چاہے عطاکرسکتا ہے۔
مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا۔ تیرے رب کی عطاپر کوئی پابندی نہیں۔

اُلجھے ہوۓ ذہن کو سُکُوں دیتا ہے
انسان کو سوچ سے فُزُوں دیتا ہے

دیکھا ہو گا کبھی برستا بادل؟؟
وہ دینے پہ آجائے تو یُوں دیتاہے!!

علامہ قاری لقمان شاہد

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post