تین طلاق میں یہ بھی

تین طلاق کے مسئلے کو لے کر جو کچھ بھی ہوا، اس کے حل کے لیے جن علماے اہل سنت نے بھی کوئی کردار نبھایا وہ سب قابل تعریف ہیں، سب نے اچھا کام کیا اور ہم ان کے لیے دعا گو ہیں لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر بات ہونی چاہیے۔ ہم اُسی پہلو کو آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ جن عورتوں کو طلاق دے کر چھوڑ دیا گیا ہے اُن سے نکاح کرے گا کون؟ ان کا سہارا بننے کے لیے کون تیار ہوگا؟ ان کا ہاتھ تھامنے کے لیے کون آگے بڑھے گا؟ 
جن کی شادی نہیں ہوئی کیا وہ ایک طلاق شدہ عورت سے نکاح کے لیے تیار ہوں گے؟ اگر کنوارے یہ کام نہیں کریں گے تو کیا جن کی شادی ہو چکی ہے وہ ہمت کر سکتے ہیں؟ پھر ان عورتوں کی زندگیوں کا کیا؟ 

یہ کچھ ایسی باتیں ہیں جن پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک جوان کنوارا لڑکا کسی بیوہ سے نکاح نہیں کرنا چاہتا اور ایک شادی شدہ شخص چاہ کر بھی نہیں کر سکتا کیوں کہ اگر اس نے کچھ ایسا کرنے کی سوچی بھی تو پہلی بیوی اور اس کے گھر والے اور پھر اپنے گھر والے ہی رکاوٹ بن جائیں گے۔ اب جب ایسے حالات ہیں تو ایک بیوہ کے سامنے کون سا راستہ بچتا ہے؟ یا تو وہ خودکشی کر لے گی یا مزدوری کر کے اپنی زندگی بسر کرے گی اور تیسرا راستہ وہ ہے جسے ہم بیان نہیں کر سکتے۔ 

ہم کس منھ سے ان عورتوں کے حق کی بات کریں جنھیں طلاق دے کر گھر سے نکالا جا چکا ہے؟ ہم خود انھیں اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ نے پہلا نکاح کن سے کیا؟ اِس میں ہمارے لیے کوئی پیغام ہے یا نہیں؟ ہم کب اِس سنت پر عمل کریں گے اور کب تین چار شادیوں کا رواج عام ہوگا؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جن کے بارے میں ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post