جہاد سے نفرت

غیر مسلموں کے پیٹ میں تو جہاد کے نام سے درد اٹھتا ہی ہے لیکن اب کچھ مسلمانوں کے سامنے بھی جہاد کا نام لینے سے ان کا چہرہ بدل جاتا ہے۔
جہاد کی بات کرنے والوں کو اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ جیسے وہ کسی دوسری دنیا سے تشریف لائے ہوں۔

جہاد کو ناپسند کرنے والے شاید اپنے آپ کو خطرات سے بچانا چاہتے ہیں اور بہ ظاہر یہی نظر آتا ہے کہ جہاد کو چھوڑ کر اپنی جان و مال کو بچایا جا سکتا ہے لیکن یہ مزید نقصان کا باعث بنتا ہے۔ جب دشمنوں کو پتا چلتا ہے کہ مسلمان اب جہاد چھوڑ بیٹھے ہیں اور امن کے پجاری بن چکے ہیں تو وہ حملہ آور ہو جاتے ہیں، مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر دیتے ہیں، ان کے مال لوٹ لیتے ہیں، ان کے علاقے پر قبضہ کر لیتے ہیں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے :

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْـــا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْـــا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠

"تم پر فرض کیا گیا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمھیں ناگوار ہے اور قریب ہے کہ کوئی بات تمھیں بری لگے اور وہ تمھارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمھیں پسند آئے اور وہ تمھارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے" 

(سورۃ البقرۃ : 216)

جہاد کسی کو پسند ہو یا ناپسند ہو لیکن حقیقت میں یہی ہمارے لیے بہتر ہے۔ 
کڑوی دوائی تھوڑی دیر کے لیے طبیعت پر گراں گزرتی ہے لیکن اسی میں شفا بھی ہوتی ہے۔ انجیکشن کے نام سے ہی کتنوں کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں مگر بہتری کے لیے ہمت جمع کرنی پڑتی ہے۔

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post