تجارت اور جھوٹ

جھوٹ کو تجارت کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ بغیر جھوٹ کے تجارت ممکن نہیں ہے۔ بازاروں میں دیکھنے کو ملتا ہے کہ کس قدر لوگ اپنے سامان کو بیچنے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

ایک حدیث میں ہے کہ بے شک سب سے پاکیزہ کمائی ان تاجروں کی ہے جو بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں، جب ان کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کریں، وعدہ کریں تو اس کی خلاف ورزی نہ کریں، جب کوئی چیز خریدیں تو اس میں عیب نہ نکالیں، جب کچھ بیچیں تو اس کی بے جا تعریف نہ کریں، جب ان پر کسی کا کچھ آتا ہو تو اس کو ادا کرنے میں تاخیر نہ کریں اور جب ان کا کسی پر آتا ہو تو وصولی کے لیے سختی نہ کریں۔

(شعیب الایمان، ج4، ص221، ح4854 بہ حوالہ اسلاف کا انداز تجارت)

عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post