سبھی تو باجے بجا رہے ہیں


یہ تو حقیقت ہے کہ میلاد مصطفی پر "سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں" کیوں کہ حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی منانے سے ابلیس اور اس کے چیلوں کو ہی اعتراض ہو سکتا ہے۔

لیکن آج کل جو خوشی منانے کا طریقہ لوگوں نے اپنا رکھا ہے اسے دیکھ کر یہ کہنا بھی ٹھیک ہوگا کہ "سوائے علما کے اس جہاں میں سبھی تو باجے بجا رہے ہیں" 

علما منع کر کر کے تھک چکے ہیں لیکن عوام سنتی کہاں ہے، انھیں تو بس باجا بجانا ہے تو بجانا ہے۔


جلوس محمدی اس جلوس کو کہتے ہیں جو شریعت محمدی کے مطابق ہو لیکن ہمارے جلوسوں میں تو شریعت کہیں نظر ہی نہیں آتی۔ نمازیں چھوڑ کر جلوس میں گھومنا، میوزک کی دھن پر اچھل کود کرتے ہوئے نعرے بازی کرنا، چھتوں اور دروازوں پر کھڑی عورتوں پر نظریں باندھنا اور ان سب کو میلاد کی خوشی کا نام دینا بالکل غلط ہے۔ اس سے ابلیس راضی ہو سکتا ہے، اللہ اور اس کے رسول نہیں! 


خوشی منانے کا یہ طریقہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے نبی کی سیرت پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کریں اور اگر اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے تو دوسروں کو بھی کتاب تحفے میں پیش کریں، غریبوں کو کھانا کھلائیں، ضرورت مندوں کی مدد کریں، غریب لڑکیوں کی شادی کروا دیں؛ ان شاء اللہ حضور اکرم ﷺ ہم سے خوش ہو جائیں گے۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post