جنگ کی تیاری


ہم جتنا مرضی نظر انداز کر لیں لیکن اب مسلمانوں کو ضرورت ہے کہ خود کو جنگ کے لیے تیار کریں۔

ہمارے دشمنوں کی کمی نہیں ہے جو چاہتے ہیں کہ ہمارا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ جب سے مسلمانوں نے تلواروں سے بے وفائی کی ہے تب سے دشمنوں کی ہمت اور بڑھ گئی ہے۔


ابھی ہم ایسی حالت میں ہے کہ اگر پتھر سے ٹھوکر کھا کر گرے تو دشمن ہمارے سر پر پہاڑ گرا دیں گے۔


ظالم، جو چین کی نیند سو رہے ہیں ان کے لیے ہمیں ڈراؤنا خواب بننے کی ضرورت ہے۔ مظلوموں کو امید دلانے کی ضرورت ہے۔ دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ اب بس.......،


خود کو مضبوط کیجیے، گھر میں اچھا لوہا اور سیمنٹ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بازوؤں میں بھی قوت پیدا کیجیے،

اپنے بچوں کو کمپیوٹر سکھانے کے ساتھ ساتھ لڑنے کے پیترے بھی سکھائیے،

فضول چیزوں کو خریدنے کے بجائے ہتھیار اکٹھا کیجیے۔


اگر اب بھی ہوش میں نہ آئے تو یہ غفلت جسے ہم نے گلے لگا رکھا ہے، ایک دن ہمیں بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دے گی۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post