لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلمان ہونا


نبوت کے تیرہویں سال جب کئی انصار حضور اکرم ﷺ کے ہاتھوں پر بیعت کے لیے تیار ہوئے تو عباس بن عبادہ انصاری نے ان سے کہا:

تمھیں یہ بھی خبر ہے کہ تم محمد ﷺ سے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو، یہ عرب و عجم سے جنگ پر بیعت ہے! (یعنی تم مسلمان تو ہو رہے ہو لیکن جان لو کہ اب تمھیں عرب و عجم سے جنگ کرنی ہوگی لہذا) اگر تمھارا خیال ہے کہ تمھارے مال تاراج ہوں (یعنی لٹ جائیں) اور تمھارے اشراف (یعنی بڑے لوگ) قتل ہوں پھر تم ان کا ساتھ چھوڑ دو گے تو ابھی سے چھوڑ دو اور اگر ایسی مصیبت پر بھی ساتھ دے سکو تو بیعت کر لو۔


سب نے کہا: ہم اسی بات پر بیعت کرتے ہیں۔


(علامہ نور بخش توکلی، سیرت رسول عربی، ص100) 


مسلمان ہونے کا مطلب، میدان جنگ میں قدم رکھنا ہے۔ اسلام اس کا نام نہیں کہ ایک طرف ایمان کا دعویٰ کیا جائے اور دوسری طرف کفر سے یاری کی جائے۔ کفر و کافر دونوں ہمارے دشمن ہیں۔ موت ہمارے لیے شہادت ہے تو پھر خوف کیسا؟ جب ہم حق پر ہیں تو پھر ڈرنا کیسا؟ ہمیں بس جنگ شروع کرنی ہے پھر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post