کیا حضور ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کو ہوئی؟


میلاد النبی ﷺ پر اعتراض کرنے والے یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ چوں کہ حضور ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کو ہوئی، اس لیے میلاد کی خوشی منانا صحیح نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضور ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی اور دوسری بات یہ کہ اگر ہوتی بھی تو اس وجہ سے میلاد کی خوشی منانے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔


بخاری شریف کی حدیث کے مطابق حضور ﷺ کی وفات ربیع الاول کے مہینے میں پیر کے دن ہوئی اور جس سال حجۃ الوداع تھا، اس سال یوم عرفہ جمعہ کے دن تھا یعنی ذوالحجہ کی نو تاریخ جمعہ کو تھی۔

اب ربیع الاول کو تین مہینے رہ جاتے ہیں، ذوالحجہ، محرم اور صفر؛ اب حساب لگایا جائے تو ربیع الاول کے مہینے میں پیر کا دن کسی طرح بارہ تاریخ کو نہیں آتا۔

اگر تینوں مہینے تیس دن کے تسلیم کر لیے جائیں تو پیر کا دن چھے ربیع الاول ہوگی اور اگر تینوں مہینے انتیس دن کے تسلیم کر لیے جائیں تو پیر کے دن دو ربیع الاول ہوگی اور اگر دو مہینے تیس کے اور ایک انتیس کا تسلیم کیا جائے تو پیر کے دن سات ربیع الاول ہوگی اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ دو مہینے انتیس کے اور ایک مہینہ تیس کا تھا (اور یہی صحیح ہے) تو پیر کے دن ایک ربیع الاول ہوگی۔ کسی بھی طرح حساب لگایا جائے تو پیر کا دن بارہ ربیع الاول کو نہیں اتا جس سے صاف ظاہر ہے کہ وفات بارہ تاریخ کو نہیں ہوئی۔


کئی علماے اہل سنت نے بھی تصریح کی ہے کہ تاریخ وفات یا تو ایک ربیع الاول ہے یا دو؛ حتی کہ اعتراض کرنے والوں کے علما نے بھی واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ کسی طرح حضور ﷺ کی وفات بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی۔ حوالے ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں۔


(انظر: الطبقات الکبری، ج2، ص208، 209،

دلائل النبوۃ، ج7، ص235، 

مختصر تاریخ دمشق، ج2، ص387، 

تہذیب الکمال، ج1، ص55، 

الاشارۃ الی سیرت المصطفی، ص351، 

الروض الانف مع السیرۃ النبویۃ، ج4، ص439، 440،

البدایہ والنھایہ، ج4، ص228، 

فتح الباری، ج8، ص473، 474،

عمدۃ القاری، ج18، ص60، 

التوشیح، ج4، ص143، 

سبل الہدی والرشاد، ج12، ص305، 

المرقاۃ، ج1، ص238، 

انسان العیون، ج3، ص473، 

سیرت رسول عربی، ص226، 

اشرف علی تھانوی، نشر الطیب، ص241، 

شبلی نعمانی، سیرت النبی، ج2، ص106، 107) 


(ماخذ: علامہ غلام رسول سعیدی، تبیان القرآن، ج7، ص576 تا 578)


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post