عالِم اور عشق


علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں کہ بغداد کا ایک بہت بڑا عالم اپنے طلبہ کے ساتھ حج کے سفر پر روانہ ہوا۔ دوران سفر پانی نہ ملنے کی وجہ سے سب نڈھال ہو کر ایک گرجا گھر کے سائے میں آرام کرنے لگے۔ طلبہ سائے تلے سو گئے لیکن استاد صاحب پانی کی تلاش میں نکل پڑے۔


پانی کی تلاش میں گھوم رہے تھے کہ ایک عیسائی لڑکی پر نظر پڑی جو چمکتے ہوئے سورج کی طرح خوب صورت تھی۔ اب پانی کو بھول کر استاد صاحب اسی کی فکر میں لگ گئے پھر اس لڑکی کے گھر پہنچ کر اس کے باپ سے بات کی تو اس نے کہا کہ اگر تم ہمارا دین قبول کر لو تو ہی کچھ ہو سکتا ہے۔


استاد صاحب نے نصرانیت کو قبول کر لیا؛ اِدھر طلبہ ابھی سو رہے تھے۔ 

پھر جب شادی کے لیے مہر کی بات آئی تو لڑکی نے کہا کہ تم ان خنزیروں کو ایک سال چراؤ تو یہی میرا مہر ہوگا۔ استاد صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے کہ ایک سال تک تم اپنا چہرہ مجھ سے نہیں چھپاؤ گی۔ لڑکی بولی کہ منظور ہے۔ استاد صاحب نے خطبہ دینے والا عصا اٹھایا اور خنزیروں کو چرانے نکل پڑے! 


جب طلبہ جاگے تو یہ سب جاننے کے بعد نیند کے ساتھ ان کے ہوش بھی اڑ گئے۔ پھر وہ استاد صاحب سے ملنے گئے تو دیکھا کہ وہ خنزیروں کو ادھر ادھر جانے سے روک رہے ہیں۔ طلبہ نے استاد صاحب کو قرآن پاک، اسلام اور نبی کریم ﷺ کے فضائل یاد دلائے تو اس نے کہا کہ مجھ سے دور ہو جاؤ، میں یہ سب تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ آخر کار طلبہ مایوس ہو کر سفر حج پر روانہ ہوگئے۔


حج ادا کرنے کے بعد واپسی پر جب اسی مقام پر پہنچے تو پھر استاد صاحب کی حالت دیکھنے گئے کہ شاید توبہ کر لی ہو لیکن اسے اسی حالت میں پایا۔ طلبہ نے نصیحت کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک بار پھر وہ حسرت زدہ دل لیے واپس ہو لیے۔


جب طلبہ تھوڑی دور نکل گئے تو انھوں نے دیکھا کہ پیچھے کوئی شخص چیخ چیخ کر انھیں روک رہا ہے۔ جب وہ قریب آیا تو معلوم ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ استاد صاحب تھے۔ استاد صاحب نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؛ یہ آزمائش تھی جس سے میں نکل گیا۔


ایک دن طلبہ استاد صاحب کے گھر پر تھے کہ ایک عورت نے دروازے پر دستک دی۔ پوچھا گیا تو کہنے لگی کہ مجھے شیخ سے ملنا ہے، شیخ سے کہو کہ فلاں راہب کی بیٹی اسلام قبول کرنے آئی ہے۔ پھر وہ اندر داخل ہوئی اور بولی:

اے میرے سردار! آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہونے آئی ہوں۔ جب آپ چلے گئے تو میں نے ایک خواب دیکھا جس میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت ہوئی۔ انھوں نے فرمایا کہ دین محمدی کے علاوہ کوئی دین سچا نہیں پھر فرمایا کہ اللہ تعالی نے تیرے ذریعے ایک بندے کو آزمایا ہے چناں چہ اب میں آپ کے پاس آ گئی ہوں۔

اسلام قبول کرنے کے بعد شیخ نے ان سے نکاح کر لیا۔ 


(انظر: بحر الدموع اردو، ص128، ملخصاً) 


اس واقعے میں کئی اسباق ہیں لیکن ایک بڑا سبق یہ ہے کہ جب کسی کو کسی سے عشق ہو جائے تو اسے پانے کے لیے حد سے آگے نہ بڑھے۔ اگر حد کے اندر رہ کر حاصل نہ کر پائے تو پھر صبر کرے اور اپنے رب سے بہتری کی امید رکھے۔ 

بے شک اللہ تعالی کے لیے یہ ناممکن نہیں کہ کسی کے دل کو پھیر دے۔ اگر آپ اپنی چاہت میں مخلص ہیں تو اللہ کے فضل سے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور دکھائی دے گا۔ 


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post