میری لڑکی کی شادی ہے


میں بہت غریب ہوں اور میری لڑکی کی شادی ہے، آپ سب مدد کیجیے..........،


سلام پھیرتے ہی کانوں میں یہ آواز آئی اور یہ پہلی بار نہیں تھا بلکہ ہفتے میں ایک دو بار یہ سننے کو ملتا ہی رہتا ہے۔

اگر میں صحیح ہوں تو آپ نے بھی مسجدوں میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو اپنی لڑکی کی شادی کے لیے بھیک مانگتے ہیں۔ لڑکے کو گاڑی، جہیز، نقدی دینے اور باراتیوں کو کھانا کھلانے کے لیے ایک غریب شخص آخر مانگنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے۔ 


میں نے دیکھا ہے کہ لوگ پانچ دس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو گیا لیکن یہ مدد کرنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔

اگر آپ واقعی مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ نیت کر لیں کہ جب میں شادی کروں گا تو ایک روپے بھی نہیں لوں گا تاکہ میری وجہ سے کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو۔


اگر آپ اسے ہزار روپے دیتے ہیں اور پھر اپنی یا اپنے بچوں کی شادی میں لڑکی والوں سے ان چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ مدد نہیں بلکہ ایک مذاق ہے۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post