وہ پھر بھی لڑے


لشکر اسلام خیبر کی طرف بڑھ رہا ہے، راستے میں حضور ﷺ نے کھانا طلب فرمایا تو صرف سَتو پیش کیے گئے؛ اسے پانی میں گھول کر کھایا گیا۔ ایسی حالت تھی مگر وہ پھر بھی لڑے.........، 


جنگ احد جب شہیدوں کو دفن کرنے کی باری آئی تو کپڑے کی قلت کا یہ عالم تھا کہ عموماً دو دو تین تین کو ملا کر ایک ہی کپڑے میں دفن کیا گیا۔ ایسے حالات ہیں مگر وہ پھر بھی لڑے........، 


حضرت امیر حمزہ کو جب دفن کیا گیا تو چادر اتنی چھوٹی تھی کہ منھ ڈھانپنے پر قدم کھل جاتے اور قدموں کو ڈھانپنے پر منھ کھل جاتا تھا۔ حضور نے فرمایا کہ منھ کو ڈھانپ دو اور قدموں پر پتے ڈال دو؛ ایسے حالات ہیں مگر وہ پھر بھی لڑے........، 


ایک صحابی لنگڑے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ جنگ کے لیے نہ جائیں لیکن انھوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ میں اسی طرح جنت میں ٹہلا کروں گا اور جنگ احد میں شہید ہو گئے؛ ذرا سوچیں کہ وہ لنگڑے ہیں مگر وہ پھر بھی لڑے........، 


حضرت حنظلہ انصاری کا جس رات نکاح ہوا اس کی صبح جنگ کا اعلان ہو گیا۔ آپ نے غسل کے لیے سر دھویا ہی تھا کہ اعلان سن کر بغیر غسل کیے جنگ میں شریک ہو گئے۔ غور کریں کہ شادی کو ایک دن بھی نہیں ہوا مگر وہ پھر بھی لڑے.......، 


(انظر: کتب سیرت)


آج ہمارے پاس کچھ نہیں، کم سے کم دفن کرنے کا انتظام تو ہے لیکن دین کے نام پر لڑنے کو تیار نہیں۔

ہر شخص چاہتا ہے کہ بس امن کی بات ہو لیکن جان لینا چاہیے کہ وہ امن کی زبان نہیں سمجھتے، انھیں تو بس ایک ہی زبان سمجھ آتی ہے اور وہ ہے تلوار کی زبان۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post