درس بخاری بدعت 


ہمارے شہر میں ایک جگہ دیوبندیوں کا اجتماع ہوا جس میں خطاب کرتے ہوئے ایک دیوبندی مفتی نے کہا کہ عید میلاد النبی پر جشن مانانا بدعت ہے کیوں کہ دین میں کوئی بھی نیا کام دین سمجھ کر کرنا بدعت ہے! 

پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے اس نے کہا کہ نیا کام وہی بدعت ہے جسے دین سمجھ کر کیا جائے اور جو کام دین سمجھ کر نہ کیا جائے اس پر نہ ثواب ہے نہ عتاب اور ایسا کام کرنے سے کوئی فائدہ نہیں لہذا ایسے کاموں سے بچنا چاہیے


اب ان سے پوچھا جائے کہ "درس بخاری" بدعت ہے یا نہیں؟ اگر جواب میں یہ کہیں کہ ہم اسے دین سمجھ کر نہیں کرتے تو بقول ان کے اس میں کوئی ثواب نہیں یعنی "درس بخاری بنا ثواب کے" اور جب کوئی ثواب ہی نہیں تو پھر اس میں وقت لگا کر کیا فائدہ؟ 

اور اگر جواب یہ ہو کہ یہ بدعت نہیں بلکہ ایک اچھا کام ہے جس میں لوگوں کو حضور ﷺ کی حدیثیں بتائی اور سمجھائی جاتی ہیں تو ہم کہیں گے کہ میلاد میں بھی تو حضور ﷺ کی سیرت اور ان سے نسبت رکھنے والوں کا ذکرِ خیر ہوتا ہے، یہاں دہرا رویہ کیوں؟ 


میلاد کے نام پر اگر کوئی ڈھول تاشے بجا کر ناچتا ہے تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے، ہم اس کے ہرگز قائل نہیں 

ہمارے نزدیک میلاد منانا نہ فرض ہے، نہ واجب بلکہ مستحب ہے جسے نہ کرنے والا گنہگار نہیں ہوتا لیکن جو اسے بدعت کہے وہ ضرور اس شعر کا مصداق ہے کہ 


نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں ربیع الاول 

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں 


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post