تمھارے پاس تمھارا نبی ہے 


جنگ حنین کے بعد جو مال غنیمت حاصل ہوا، اسے حضور ﷺ نے طلقا (جنھیں فتح مکہ کے دن حضور نے معاف کیا تھا) اور مہاجرین میں تقسیم فرما دیا اور انصار کو کچھ نہ دیا۔

اس پر انحصار کو رنج ہوا اور بعض جوان کہنے لگے:

"خدا رسول اللہ ﷺ کو معاف کردے، وہ قریش کو عطا فرماتے ہیں اور ہم کو محروم رکھتے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے قریش کے خون کے قطرے ٹپکتے ہیں اور بعض بولے ”جب مشکل پیش آتی ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیمت اوروں کو دی جاتی ہے۔" 


حضور ﷺ نے یہ چرچا سنا تو انصار کو طلب فرمایا۔ ایک چمڑے کا خیمہ نصب کیا گیا جس میں آپ نے انصار کے سوا کسی اور کو نہ رہنے دیا۔ جب انصار جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے

پوچھا کہ وہ کیا بات ہے جو تمھاری نسبت میرے کان میں پہنچی ہے؟ 

انصار جھوٹ نہ بولا کرتے تھے کہنے لگے کہ سچ ہے جو آپ ﷺ نے سنا مگر ہم میں سے کسی دانا نے ایسا نہیں کہا بلکہ نو خیز جوانوں نے ایسا کہا تھا۔


یہ سن کر آپ ﷺ نے یوں خطاب فرمایا:

اے گروہ انصار کیا یہ سچ نہیں کہ تم گمراہ تھے، خدا نے میرے ذریعے سے تم کو ہدایت دی اور تم منتشر تھے، خدا نے

میرے ذریعے سے تم کو جمع کردیا اورتم مفلس تھے، خدا نے میرے ذریعے سے تم کو دولت مند کردیا۔


آپ ﷺ فرماتے جاتے تھے اور انصار ہر فقرے پر کہتے جاتے تھے کہ خدا اور رسول کا احسان اس سے بڑھ کر ہے۔


آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے جواب کیوں نہیں دیتے۔ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ہم کیا جواب دیں خدا اور رسول کا احسان اور فضل ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: بخدا! اگر تم چاہو تو یہ جواب دو میں ساتھ ساتھ ساتھ تمھاری تصدیق کرتا جاؤں گا۔


آپ ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ لوگوں نے آپ کی تکذیب کی تھی، ہم نے آپ کی تصدیق کی، 

لوگوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا، ہم نے آپ کی مدد (خدمت) کی، 

لوگوں نے آپ کو نکال دیا تھا ہم نے آپ کو پناہ دی، 

آپ مفلس تھے ہم نے جان و مال سے آپ کی ہمدردی کی۔


پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تالیف قلوب (یعنی لوگوں کے دلوں کو مائل کرنے) کے لیے اہل مکہ کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ 

اے انصار کیا تمھیں یہ پسند نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں (مال غنیمت) لے کر جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو لے کر گھر جاؤ۔

اللہ کی قسم جو کچھ تم لے جا رہے ہو وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جارہے ہیں۔ اگر لوگ کسی وادی یا درہ میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا دره میں چلوں گا۔


یہ سن کر انصار پکار اٹھے: یا رسول اللہ ہم راضی ہیں اور ان پر اس قدر رقت طاری ہوئی کہ روتے روتے ڈاڑھیاں تر ہو گئیں۔


(علامہ نور بخش توکلی، سیرت رسول عربی، ص236) 


تھوڑا سا مال غنیمت کیا ہے، اگر ایک طرف پوری دنیا اور اس کی دولت موجود ہو اور دوسری طرف حضور ﷺ ہوں تو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ ہمیں کدھر جانا ہے۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post