اے مسلمانو! تم کیسے سکون سے ہو؟ 


حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:


کیف القرار و کیف یھدا مسلم 

والمسلمات مع العدو المعتدی


کسی مسلمان کو کیسے قرار حاصل ہو اور وہ کیوں کر پر سکون ہو سکتا ہے جب کہ مسلمان عورتیں سرکش دشمنوں کی قید میں ہیں۔


الضاربات خدودھن برنته

الداعیات نبیھن محمد 


جو (یعنی وہ عورتیں) چیخ و پکار کرتے ہوئے اپنے رخسار پیٹتی ہیں اور اپنے نبی سیدنا محمد ﷺ کو پکارتی ہیں۔


القائلات اذا خشین فضیحۃ

جھد المقالۃ لیتنالم نولد


ذلت و رسوائی کے خوف سے مجبور ہو کر سخت ترین بات کہتی ہیں کہ اے کاش ہم پیدا ہی نہ ہوئی ہوتیں! 


ما تسطیع وما لھا من حیلۃ

الا التستر من اخیھا بالید


نہ تو وہ کوئی طاقت رکھتی ہیں اور نہ تو کوئی حیلہ کر سکتی ہیں سوائے اس بات کے کہ ہاتھ کے ساتھ اپنے بھائی سے پردہ کر لیں۔


ایھا الناسک الذی لبس الصوف

واضحی یعدفی العباد


اے نرم لباس پہن کر عبادت گزاروں میں شامل ہونے والے صوفی 


الزم الثغر والتعبد فیہ

لیس بغداد مسکن الزھاد


سرحد کو لازم پکڑ اور وہیں عبادت میں مشغول ہو جا کیوں کہ بغداد تو زاہدوں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔


ان البغداد للملوک محل

و مناخ للقاری الصیاد


بے شک بغداد تو بادشاہوں کا محل و مسکن ہے اور شکاری علما کی شکار گاہ ہے۔


(اسلام کا تصور جہاد) 


آج جب کہ مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے، ایسے میں ہمیں کس طرح سکون حاصل ہو سکتا ہے۔

ہمیں مظلوموں کے درد کو محسوس کرنا ہوگا اور ظالموں سے جنگ کی تیاری کرنی ہوگی ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم بھی اسی ظلم کے شکار ہوں گے جس کے آج ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post