تمناؤں کی جنگ


ایک مرتبہ ولید بن عبدالملک نے بدیح سے کہا کہ آؤ تمناؤں میں مقابلہ کریں (یعنی ہم دونوں اپنی اپنی تمنا بیان کریں گے اور جس کی تمنا بڑی ہوگی وہ جیت جائے گا) ۔


بدیح نے کہا کہ آپ مجھ پر ہرگز غالب نہ آ سکیں گے۔ ولید نے کہا کہ میں غالب ہو کر رہوں گا اور تو جس تمنا کا اظہار کرے گا، میں اس سے دوگنی کا اظہار کروں گا۔ 


بدیح نے کہا: بہت اچھا، تو میری تمنا یہ ہے کہ مجھے ستر قسم کا عذاب دیا جائے اور مجھ پر اللہ ہزاروں لعنت بھیجے! 

ولید نے کہا: کمبخت تیرا برا ہو، بس تو ہی غالب رہا (یعنی تو اس مقابلے میں جیت گیا) 


(کتاب الاذکیاء لابن جوزی) 


یہ واقعہ تو تفریح کے لیے تھا مگر ہمارے درمیان بھی تمناؤں کا مقابلہ چل رہا ہے۔ کسی نے گاڑی خریدی تو ہم اس سے مہنگی خریدیں گے، 

کسی نے موبائل خریدا تو ہم آئی فون خریدیں گے، 

کسی کی شادی میں گانے والا آیا تو ہم ناچنے والی کو بلا لیں گے، 

کسی کی شادی میں گھوڑا آیا تو ہم کچھ نیا کرنے کے لیے ڈولی منگوائیں گے، 

کسی نے تقریر میں کوئی نئی روایت بیان کی تو ہم بھی جیتنے کے لیے ایک نئی روایت گھڑ کر بیان کر دیں گے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مقابلے کے چکر میں ہم کس حد تک گر چکے ہیں۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post