چور کی داڑھی میں تنکا


ایک شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! میرے پڑوس میں ایسے لوگ ہیں جو میری بطخ چراتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے نماز کے لیے اعلان کرایا (لوگ حاضر ہو گئے) پھر آپ نے خطبہ دیا جس کے دوران فرمایا :

تم میں ایک شخص اپنے پڑوسی کی بطخ چوری کرتا ہے اور ایسی حالت میں مسجد میں آتا ہے کہ اس کے سر پر بطخ کا پر ہوتا ہے۔


یہ سن کر چور نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ پکڑ لو اس کو، یہی چور ہے۔


(کتاب الاذکیاء لابن جوزی، ص31) 


بے شک جو شخص مجرم ہوتا ہے، اس کے اندر پکڑے جانے اور سزا کا خوف ہوتا ہے اور یہ خوف باہر بھی نظر آتا ہے۔ اگر اس کے خوف کا فائدہ اٹھانا آتا ہو تو اسے آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post