بھولی بھالی بیوی


حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی بیوی کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے۔ پھر وہاں سے اٹھے اور حجرے کی طرف تشریف لے گئے جہاں ان کی باندی تھی اور اس سے مشغول ہو گئے۔

جب ان کی بیوی نے بیدار ہو کر ان کو نہ پایا تو تلاش کے لیے نکلیں اور دیکھا کہ وہ اپنی باندی کے پیٹ پر ہیں تو وہیں سے واپس ہو گئیں اور چھری لے کر باندی کے پاس گئیں! (آج یا تو باندی یا پھر میں)


حضرت عبداللہ نے کہا کہ کیا بات ہے؟ بیوی نے کہا کہ کیا بات! سمجھ لو! میں اگر اِس وقت تم کو اسی حالت میں دیکھتی جس میں تم تھے تو اس چھری سے اس (باندی) کی خبر لیتی۔

حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں کہاں تھا؟ بیوی نے کہا کہ اس باندی کے پیٹ پر؛ حضرت عبداللہ نے کہا کہ میں کہاں تھا (اور یہ اس انداز میں کہا کہ بیوی کو لگا کہ آپ انکار کر رہے ہیں)۔ 


بیوی نے (چیک کرنے کے لیے) کہا:

اچھا؛ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حالت جنابت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے (لہذا) اگر تم سچے ہو تو قرآن پڑھ کر سناؤ۔

حضرت عبداللہ نے (قرآن کے لہجے میں) عربی اشعار پڑھ ڈالے۔ جب بیوی نے سنا تو قرآن سمجھ کر کہا کہ میں اللہ پر ایمان لائی اور میری آنکھیں جھوٹی ہیں۔


حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ جب میں نے صبح یہ ماجرا حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا تو آپ اتنا مسکرائے کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔


(کتاب الاذکیاء لابن جوزی) 


بیویوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ شوہروں کے پیچھے پڑی رہتی ہیں اور محبت کی نگاہ سے کم، شک کی نگاہ سے زیادہ دیکھتی ہیں۔ شک کرنے کے لیے انھیں بس ایک چنگاری کی ضرورت ہے، پھر آگ لگنے میں بالکل دیر نہیں لگتی۔

بیویاں ویسے تو اپنے شک میں آ کر شوہروں کی خوب جانچ پڑتال کرتی ہیں لیکن شوہر بھی کم نہیں ہوتے، وہ بھی ہمیشہ دو قدم آگے رہتے ہیں۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post