بچے پر ظلم


جس بچے نے صحیح سے بولنا بھی نہیں سیکھا، جس کا ذہن ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے، جس کی سمجھ نے ابھی اڑنے کے لیے پنکھ ہی پھیلائے ہیں اسے اسکول جیسے قید خانے میں بھیجنا، اس پر ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ 


درجن بھر کتابیں اور کاپیاں، 

اوپر سے کئی موضوعات کو ایک ساتھ پڑھنا، 

اوپر سے تمام اساتذہ کا خوف، 

اوپر سے ماں باپ، بھائی بہن کے طعنے، 

فیل ہونے کا ڈر، 

مار کھانے کا ڈر...

اور بھی بہت سی باتیں ہیں جن کے بوجھ تلے دب کر بچے کی خواہشیں، اس کی قابلیت، اس کا ذہن اور بالآخر اس کی زندگی دم توڑ دیتی ہے۔


ہر گھنٹے ایک طالب علم (Student) خودکشی کرتا ہے، اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ یہ کتنا بڑا المیہ ہے جس کی طرف ہم توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ خودکشی کرنے والوں میں اگلا نام آپ کے بچے کا ہو لہذا اس پر توجہ دیں۔


بچوں کو اسکول اور کالج سے دور رکھیں۔ بچوں کو قابل بنائیں، انھیں علم دیں لیکن اس رسمی پڑھائی سے دور رکھیں۔ چار لوگ ضرور چالیس قسم کی باتیں کہیں گے لیکن آپ کو ان کے حساب سے نہیں چلنا ہے بلکہ اپنی راہ خود بنانی ہے۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post