مال اور وقت برباد، اسکول اور کالج آباد 


آپ کو اچھا لگے یا نہ لگے لیکن مال اور وقت کی بربادی کا دوسرا نام اسکول اور کالج ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم علم حاصل کرنے کے خلاف ہیں تو آپ کو ہماری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔ آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کے لیے ہم اسکول اور کالج کے محتاج ہیں تو بھی آپ کو ہماری باتیں سمجھ نہیں آئیں گی۔


ہم ایک ایسی حقیقت پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر کئی پردے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اب ایک عجیب ماحول بن چکا ہے کہ جس کام کو لوگ کثرت سے کرتے ہیں یا کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں، ہمیں بھی وہی کرنا ہے اور وہی ضروری ہے۔

اسکول اور کالج میں بچوں کی آدھی زندگی بیت جاتی ہے لیکن حاصل کیا ہوتا ہے؟ یہ آپ خود دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا۔


ہم نے کئی پڑھاکو دیکھے ہیں جنھوں نے اسکول اور کالج کے ہزاروں چکر لگائے ہیں لیکن انھوں نے علم حاصل نہیں کیا۔ یہ آپ سمجھتے ہیں کہ اسکول اور کالج ہی علم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

جب اسکول اور کالج کا نام و نشان نہیں تھا، اس وقت ایسے ایسے لوگ موجود تھے جن کے بارے میں پڑھ کر یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ سیکڑوں اسکول اور کالج کے مقابلے میں وہ اکیلے کافی تھے۔ در اصل وہ علم حاصل کرتے تھے اور ہم بس رسم (Formality) ادا کر رہے ہیں اور اسے ضروری بھی سمجھ رہے ہیں۔


علم حاصل کرنے کے لیے عمر کیا ہونی چاہیے؟ وقت کتنا لگنا چاہیے؟ مال کتنا خرچ ہونا چاہیے؟ اگر وقت اور پیسے زیادہ لگ رہے ہیں تو علم کون سا اور کتنا حاصل ہونا چاہیے؟ ان باتوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں تو لگائیں اور دیکھیں کہ آپ اسکول اور کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا اپنا اور اپنے بچوں کا وقت برباد کر رہے ہیں۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post