چنگیز خان کا پوتا اور حضرتِ شیخ سعدی


چنگیز خان کے پوتے اور ہلاکو خان کے بیٹے اباقہ خان سے جب حضرتِ شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی کی ملاقات ہوئی تو آپ نے بنا ڈرے اس سے گفتگو کی اور جب جانے لگے تو اس نے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کیجیے۔


آپ نے فرمایا: دنیا سے نیکی اور بدی آخرت میں ساتھ جائے گی اب تمھیں اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے تمھیں کیا ساتھ لے جانا منظور ہے۔


اباقہ خان نے گزارش کی کہ اس نصیحت کو اشعار کا جامہ پہنا دیجیے۔ حضرتِ شیخ نے اسی وقت کہا: 


شہے کہ پاس رعیت نگاہ میدارد

حلال باد خراجش کہ مزد چوپانی است

وگرنہ راعئ خلق است زہر مارش باد 

کہ ہرچہ میخورد از جزیۂ مسلمانی است


"یعنی جو بادشاہ رعایا کی صحیح طور پر حفاظت کرتا ہے اس کے لیے خراج اس لیے حلال ہے کہ اس نے حفاظت کی اجرت وصول کی ہے اور اگر مخلوق کی حفاظت نہیں کرتا تو خدا کرے کہ خراج اس کے لیے زہر قاتل ہو کیوں کہ وہ مسلمانوں کا کا جزیہ (ٹیکس) کھا رہا ہے" 


اباقہ خان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کئی دفعہ پوچھا کہ میں مخلوق کا محافظ ہو یا نہیں؟

آپ نے فرمایا کہ اگر آپ محافظ ہیں تو پہلا شعر آپ کے مناسب ہے ورنہ دوسرا شعر۔


اباقہ خان آپ کی نصیحت سے خوش ہوا اور آپ کو اعزاز کے ساتھ رخصت کیا۔ 

اس طریقے سے ایک عام آدمی کو نصیحت کرنا مشکل ہے مگر شیخ سعدی نے منگول بادشاہ کے سامنے پوری بے باکی سے حق کی آواز کو بلند کیا۔


زمانے کو ضرورت ہے ظالموں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بے خوف بولنے والے لوگوں کی۔

اللہ تعالی ہمیں بھی ان مبارک ہستیوں کے صدقے حق بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔


(عظمتوں کے پاسبان، ص13، 14)


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post