کیا حلوہ بدعت ہے


ایک دیوبندی مفتی کو سننا ہوا جو بیان کر رہا تھا کہ شب برات کا حلوہ بدعت اور شیطانی عمل ہے! یہ سن کر بہت زیادہ حیرت بھی نہیں ہوئی کیوں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ لوگ ایک عرصے سے مسلمانوں پر شرک و بدعت کے فتوے داغ رہے ہیں۔ مسلمان اگر کوئی نیک کام کر رہے ہیں تو بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے یہ لوگ اپنے فتووں سے اسے نیکیوں سے دور کر کے ایک لمبی بحث میں پھنسا دیتے ہیں اور اپنے گمان کو ان پر زبردستی تھوپ کر حکم لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

ویسے تو ان کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ فتنہ سنیوں کی طرف سے پھیلایا جاتا ہے اور خود کو ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے "عالمی اتحاد کمیٹی" کے بانی یہی ہیں لیکن اصل میں یہی وہ لوگ ہیں جو فتنوں کو ہوا دیتے ہیں اور پھر جب ان کا تعاقب کیا جاتا ہے تو بھیگی بلی بن کر "امن امن" کا جاپ جپنے لگتے ہیں۔


شب برات کی فضیلت سے تو انھیں بھی انکار نہیں، اگر انکار ہے تو چند نیک کاموں سے جو سنی اس رات کرتے ہیں۔ حلوے کو ہی لے لیں تو حدیث میں مذکور ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسند تھا اور پھر بخاری، کتاب النکاح میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت زینب سے نکاح فرمایا تو ام سلیم نے بطور ہدیہ کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ بنا کر حضرت انس کے ہاتھ بارگاہ رسالت میں بھیجا، حضرت انس جب وہ حلوہ لے کر سرکار کی بارگاہ میں حاضر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب لوگوں کو بلا لاؤ جب سب آگئے تو حضرت انس فرماتے ہیں:


قرأيت النبي صلى الله عليه وسلم وضع يديه على تلک

الحيسة وتكلم بهاماشاء الله... الخ


میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس کھانے پر اپنا دست اقدس رکھا اور جو اللہ کو منظور تھا آپ نے اس کے ساتھ کلام فرمایا پھر آپ نے دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلایا اور فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اپنے سامنے سے کھاؤ۔


اس کے جواز میں کوئی شک نہیں لیکن پھر یہ کہا جاتا ہے کہ چوں کہ تخصیص کر دی گئی ہے لہذا بدعت ہو گئی، یہ بڑی عجیب بات ہے اور علمی خیانت بھی کہ تخصیص و تعین یہاں جو عرفی ہے اسے اس مذموم تخصیص و تعین کے ساتھ لے جا کر جوڑ دینا جس کا یہاں تصور ہی نہیں، ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے۔ فرائض و واجبات کے اوقات اور جو تعداد شریعت مطہرہ نے مقرر کر دیے ہیں اس کی یہاں مثال دینا ہی غلط ہے کیوں کہ اس میں تقدیم و تاخیر اور اضافہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تخصیص جس میں مطلق عمل کو عرف اور ضرورت کے مطابق متعین کیا جائے، اسے ہرگز بدعت نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ اس کا جواز روایات، فقہی جزئیات و اقوال صحیحہ سے موجود و اظہر من الشمس ہے۔ اگر یہ بات بھی ان کی سمجھ میں نہ آئے تو یہ ہٹ دھرمی اور مسلمانوں سے کھلی دشمنی ہے کہ ان کی نیتوں، تاویلات اور وضاحت کے بعد بھی ان کو زبردستی بدعتی و جہنمی قرار دیا جائے۔


تخصیصات عرفیہ کو حدیث میں جائز فرمایا گیا ہے:

صوم یوم السبت لالک ولاعلیک (مسند احمد بن حنبل) 

"سنیچر کا روزہ نہ تجھے مفید ہے اور نہ تیرے لیے نقصان دہ ہے" 

پھر اباحت اصلیہ بھی اپنی جگہ موجود اور مزید یہ کہ ایصال ثواب کی تفصیلات میں یہ امور شامل پھر یہ مانعین و معترضین کی جہالت ہے کہ "جواز خصوصی کے لیے دلیل خصوصی مانگتے ہیں اور منع خصوصی کے لیے دلیل خصوصی نہیں دیتے" یہ جواب دیں کہ جس سے یہ منع کرتے ہیں کیا اللہ و رسول نے اس سے منع فرمایا یا اپنی طرف سے کہتے ہیں؟ اگر فرمایا تو کون سی آیات ہیں اور کہاں ہیں وہ احادیث؟ کہاں حلوا ممنوع ہے اور کہاں بدعت لکھا ہے؟ پھر اپنی طرف سے، اپنے گمان کو لوگوں پر چسپاں کر کے بدعتی قرار دینا ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا یہ شریعت مطہرہ پر افترا نہیں! 


اب انھوں نے شیطانی عمل کہا ہے تو دو جملے ہماری طرف سے بھی سن لیں اگرچہ تکلیف ہوگی لیکن شروعات بھی تو انھوں نے ہی کی ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ حلوے میں گھی ہوتا ہے اور گھی کتوں کو ہضم نہیں ہوتا تو بڑی بات ہو جائے گی کہ دیکھو کیسے الفاظ استعمال کیے ہیں حالانکہ خود مسلمانوں کے جائز اعمال کو شیطانی کام کہتے ہوئے شرم تک نہیں آئی پھر ایک بات یہ کہ امام غزالی نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جو بدعت ظاہر ہوئی وہ پیٹ بھر کر کھانا ہے لہذا دیوبندیوں کو چاہیے کہ تھوڑا کم کھائیں تاکہ دماغ کو ہوا لگے اور مسلمانوں پر ایسی فتوے بازی سے باز آ جائیں اور آخر یہ بقول امام زروق کہ "گندا گمان گندے دل سے ہی پیدا ہوتا ہے"۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post