اگر آپ کہیں تو سمند میں کود پڑیں


ماہ رمضان، سنہ 2ھ... ایک لشکر مدینے سے روانہ ہوا... لشکر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جلوہ فرما ہیں... نہ زیادہ ہتھیار، نہ زیادہ فوجی اور نہ زیادہ راشن ہے۔ اچانک راستے میں معلوم ہوتا ہے کہ دشمن حملہ آور ہونے والے ہیں اور ایک بڑی جنگ سامنے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور صورت حال سے آگاہ کیا کہ ممکن ہے اس سفر میں کافروں سے جنگ کی نوبت آ جائے۔


صحابہ میں سے حضرت صدیق اکبر و فاروق اعظم اور دوسرے مہاجرین نے جوش و خروش کا اظہار کیا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں انصار کے چہروں پر تھی کیوں کہ انصار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ اس وقت تلوار اٹھائیں گے جب کفار مدینے پر چڑھ آئیں گے اور یہاں مدینے سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا معاملہ تھا۔


انصار میں سے ایک قبیلے کے سردار حضرت سعد بن عبادہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں کو دیکھ رہے تھے، کہنے لگے :

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے؟ ہم وہ جاں نثار ہیں کہ اگر آپ کا حکم ہو تو ہم سمندر میں کود پڑیں! 


پھر ایک اور قبیلے کے سردار حضرت مقداد بن اسود نے جوش میں آ کر عرض کی :

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو حضرت موسی علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑے بلکہ ہم لوگ آپ کے دائیں سے، بائیں سے، آگے سے اور پیچھے سے لڑیں گے۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا پھر جو جنگ ہوئی اسے جنگ بدر کہا جاتا ہے۔ کافروں کو منھ کی کھانی پڑی اور مسلمانوں کو اللہ تعالی نے فتح عطا فرمائی۔


(سیرت مصطفی، علامہ عبد المصطفی اعظمی) 


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post