چلیے جہاد کرتے ہیں


جہاد کے بارے میں دس لوگوں سے بات کیجیے تو بیس قسم کے نظریے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کوئی کچھ کہتا ہے تو کوئی کچھ، جسے جو پسند آتا ہے بول دیتا ہے۔ 

ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ہندستان میں جہاد ہو ہی نہیں سکتا اور وہ اس انداز سے بتاتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے وہ مسلمانوں سے یہ کَہ رہے ہیں کہ ہمیں تو جہاد کرنا ہی نہیں ہے لہذا غفلت کی نیند کا مزا لیجیے اور جہاں تک ہو سکے امن امن کا ورد کرتے رہیں۔ اس کے بر عکس ایک گروہ اتنا جذباتی ہے کہ وہ بات بات پر جہاد کرنے کے لیے تیار رہتا ہے اور اس چکر میں خود بھی نقصان اٹھاتا ہے اور ان کے چکر میں بھولے بھالے مسلمانوں کی زندگی بھی برباد ہو جاتی ہے۔


ہم کہتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ جہاد کے باب کو بالکل الگ کر دینا بھی صحیح نہیں ہے اور اسے بالکل کھانا پینا بنا لینا بھی صحیح نہیں ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک بیچ کا راستہ ہے جس میں اعتدال ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جذبات کو کہیں الگ رکھ کر فیصلہ کریں کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔


جو کہتے ہیں کہ ہندستان میں ہم اپنی طرف سے پہل نہیں کر سکتے، وہ بھی یہ مانتے ہیں کہ جب ہم پر حملہ ہوگا تو اپنے دفاع کے لیے لڑنا فرض ہوگا اور جو بات بات پر جہاد کو بیچ میں لاتے ہیں وہ تو مانتے ہی ہیں کہ ہمیں لڑنا ہوگا اور ان دونوں صورتوں میں ایک بات مشترک ہے کہ جنگ کا ہونا یقینی ہے، اب چاہے پہلے حملہ کیا جائے یا دفاع کے لیے لڑا جائے۔ اب جب اس بات پر سب متفق ہیں کہ "ہمیں لڑنا ہے" تو اب جنگ کی تیاری ضروری ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جسے دونوں نظر انداز کر رہے ہیں۔


یہ جو دو گروہوں کی بات ہم نے کی تو دونوں ہی مسلمانوں کا بھلا چاہتے ہیں۔ ایک یہ چاہتا ہے کہ مسلمان خود کو ایسی جنگ کی آگ میں نہ جھونکیں جن کی انھیں سکت نہیں اور ایک یہ چاہتا ہے کہ ہم ظالموں اور کافروں کا نام ہی مٹا دیں تاکہ مظلوموں اور مسلمانوں کو چین کی سانس میسر ہو سکے۔ ان دونوں میں اگر پہلے والے کی بات پر اس طرح عمل کیا جائے کہ ہمارے ساتھ جو بھی ہو، ہم خاموشی اختیار کریں اور امن امن کے علاوہ کچھ نہ کریں تو بھی غلط ہوگا اور اگر دوسرے گروہ کا کہنا مان کر جہاد کے لیے فوری طور پر اتر آئیں تو بھی بہت برے نتائج سامنے آئیں گے کہ کروڑوں مسلمانوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچایا جائے گا۔ اب سوال آتا ہے کہ ہم کیا کریں؟ تو جواب یہی ہے کہ جنگ کی تیاری کریں۔


آج ہم جنگ میں پہل نہیں کر سکتے کیوں کہ ہمارے پاس طاقت نہیں ہے تو جب ہم پر حملہ ہوگا تب ہم طاقت کہاں سے لائیں گے، اس وقت بھی تو ہمیں جنگ ہی کرنی ہوگی۔ آج بھی حملے ہو رہے ہیں جس کا جواب دینا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ ہمارے بھائیوں کا خون بَہ رہا ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے، عورتوں کی عزت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے لیکن ہم لاچار بنے بیٹھے ہیں، مسلمانوں کی جانیں جا رہی ہیں لیکن ہم اپنے شہیدوں کا انتقام نہیں لے سکتے۔


اب ضرورت ہے کہ بنا کسی کے بتائے معاملات کو سمجھ جائیں اور مستقبل میں پیش آنے والے حالات کو بھانپ لیں اور غفلت کی نیند نہ سوئیں اور نہ جذبات میں آ کر کوئی قدم اٹھائیں، بس وہ کریں جو اچھا ہو، جس سے فائدہ ہو؛ یقین جانیے کہ اگر ہر مسلمان اپنا بہتر دکھائے اور دنیا کی رنگینیوں سے نکل کر کفر کی تاریکیوں میں شمع روشن کرے تو آنے والی نسلیں ضرور ایک نیا سورج دیکھیں گی۔


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post