مہمان نوازی


مہمان کبھی بھی آ سکتے ہیں۔ آج کل تو فون کر کے آتے ہیں لیکن ہم ایسے مہمانوں کی بات کر رہے ہیں جو اچانک ٹپک سکتے ہیں۔ مہمان نوازی کے لیے سامان کی ضرورت پڑتی ہے اور مہمان نوازی میں دیر نہ ہو اس لیے ہم سامان تیار رکھتے ہیں۔ اگر مہمان جلدی میں ہو تو پکوان نہیں بناتے بلکہ کسی تیار شدہ چیز سے کام چلاتے ہیں اور اگر وہ بھی نہ ہو تو ذلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیاری کا ہونا بہت ضروری ہے۔ آپ مہمانوں کے لیے سامان جمع کر کے رکھیں تاکہ وہ خالی پیٹ جا نہ سکیں۔ اتنا سامان رکھیں کہ کھانے کے بعد مہمان جانے کے لائق بھی نہ بچے! مہمان نوازی بہت ضروری ہے۔ 


مسلمانوں نے مہمان نوازی پر دھیان دینا چھوڑ دیا ہے اور اسی وجہ سے ہمیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مہمان آتے ہیں اور ہمارے پاس سامان نہیں ہوتا اور وہ اتنی جلدی میں ہوتے ہیں کہ تیاری کا وقت تک نہیں ملتا۔ ہم تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ مہمان نوازی کے لیے ہر وقت تیار رہیں۔ 


اگر آپ کو ہماری باتیں سمجھ میں نہیں آئیں تو جلدی سے سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ جب مہمان آ جائے گا تو سمجھنے اور سمجھانے کا موقع نہیں ملے گا۔ 


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post