!تکنیک نے ہمیں کیا بنا دیا


یہ دور تکنیک کا دور ہے۔ مشکل سے مشکل کام کو تکنیک کے ذریعے آسانی سے انجام دیا جا رہا ہے۔ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تکنیک سے لوگوں کو کافی فائدہ ہوا ہے اور انتہائی درجے کی سہولتیں فراہم ہوئی ہیں لیکن اس سے جو نقصان ہوا ہے وہ بھی بہت بڑا ہے۔


سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ لوگوں کے ذہنوں میں شارٹ کٹ کا ایک کیڑا پیدا ہو چکا ہے جو ہر جگہ، ہر کام میں شارٹ کٹ تلاش کرتا ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ لوگ ایک حدیث سننے کے لیے مہینوں سفر کرتے تھے، ایک کتاب کو لکھنے میں سالوں گزار دیتے تھے، سفر حج میں مہینوں لگا دیتے تھے اور بھی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر جدوجہد کا جذبہ کمال درجے کا تھا۔ ایک آج کا دور ہے کہ لوگ زیادہ وقت لگا کر لکھنے کے بجائے کاپی پیسٹ کرنا پسند کرتے ہیں، یوٹیوب پر کسی کی تقریر سنتے وقت اگر لگتا ہے کہ وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہا ہے تو اسے سپیڈ کر کے سنتے ہیں، اگر نیٹ ورک کی وجہ سے ایک میسج جانے میں دیر کرے تو ہم موبائل کے سسٹم کو ہلا دیتے ہیں، اگر لائٹ چلی جائے تو ہمارا دم گھٹنے لگتا ہے اور مختصر یہ کہ تکنیک کے بھروسے ہماری آدھی سے زیادہ زندگی ہے۔


پہلے لوگوں کے پاس موبائل، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ٹی وی اور فیس بک، واٹس ایپ وغیرہ نہیں تھا تو وہ اپنی عقل کو مستقبل کے لیے خرچ کرتے تھے۔ ان کی زندگیوں کو پڑھنے کے بعد جب ہم اپنی زندگی کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کام اپنے آنے والی نسلوں کے لیے ہوتا تھا اور ہمارا صرف اپنا ٹائم پاس کرنے کے لیے ہوتا ہے، 

وہ جدوجہد کرنے والے تھے، ہم شارٹ کٹ چاہتے ہیں، 

وہ آسمان سے تارے توڑ لانے کا جذبہ رکھتے تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہوم ڈلیوری کا کوئی آپشن ہو، 

وہ جنگ کے لیے تیار رہتے تھے، ہم امن امن کا گیت گاتے ہیں، 

ان کا نام سن کر بڑے بڑے بادشاہ کانپتے تھے اور ہمیں ایک کتا بھی ڈرا کر چلا جاتا ہے، 

وہ اپنے شہیدوں کا انتقام لیتے تھے اور ہم اپنے شہیدوں کی لاش پر کھڑے ہو کر دشمنوں سے گلے ملتے ہیں، 

وہ دشمنوں پر گھات لگا کر حملہ کرتے تھے اور ہم ٹویٹ کر کے دکھاتے ہیں کہ یہ تکنیک کا زمانہ ہے، 

وہ زیادہ شادیاں کرتے، زیادہ بچے پیدا کرتے تاکہ مجاہدین کی تعداد میں اضافہ ہو اور ہم چوں کہ تکنیک کے مارے ہیں لہذا دو بچوں کو ڈاکٹر انجینئر بنانے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔


ابھی بس نہیں ہوا، ابھی بہت کچھ کہنے کو ہے۔ وہ میدان جنگ میں دشمنوں کے مقابلے کے لیے اتر کر اللہ تعالی سے دعا کرتے تھے اور آج ہم گھر میں ہی دعا کر کے فیس بک پر دوستوں سے آمین کہلوا لیتے ہیں، 

وہ اپنے بچوں کو گھڑ سواری، تلوار بازی، تیر اندازی وغیرہ کی تعلیم دیتے تھے اور ہم بچے کو گاندھی بنا کر یہ بتاتے ہیں کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی...... کوئی حد بھی ہوتی ہے۔


پہلے دشمن آتے تھے امن کا معاہدہ کرنے اور اب ہم جاتے ہیں شانتی کا پروپوزل لے کر، 

پہلے دشمنوں کو ہم سے پناہ مانگنی پڑتی تھی اور آج ہم ان سے اپنے حقوق مانگتے ہیں وہ بھی دھرنا دے کر اور جلوس نکال کر، کیا مذاق ہے۔

کہنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن چوں کہ یہ تکنیک کا زمانہ ہے اور لوگ زیادہ لمبی پوسٹ پڑھتے نہیں تو کہیں آپ اسکرول کر کے آگے نہ نکل جائیں اس لیے یہیں بس کرتے ہیں۔ بس...


عبد مصطفی

Post a Comment

Leave Your Precious Comment Here

Previous Post Next Post